Font by Mehr Nastaliq Web
Amjad Rabbani's Photo'

امجد ربانی

1980 | جبل پور, بھارت

دربارِ ربانیہ، شرف آباد، جبل پور کے سجادہ نشیں

دربارِ ربانیہ، شرف آباد، جبل پور کے سجادہ نشیں

امجد ربانی کا تعارف

تخلص : 'امجد'

اصلی نام : فیضان الرب

پیدائش : 01 Mar 1980 | جبل پور, مدھیہ پردیش

رشتہ داروں : اسعد ربانی (بھائی)

امجد ربانی کا اصل نام سید فیضان الرب ہے، وہ جبل پور میں واقع دربارِ ربانی، منڈی مدار ٹیکری کے سجادہ نشیں اور مسندِ سرکارِ شہیدِ ملت کے امین ہیں، ان کی پیدائش یکم مارچ 1980ء کو ہوئی، دینی تعلیم کے لیے انہوں نے جامعہ اشرفیہ، مبارک پور میں داخلہ لیا، جہاں سے فاضلِ نظامی کی سند حاصل کی اور علومِ دینیہ و ادبیہ میں گہری بصیرت پیدا کی، علم و عرفان کی اشاعت، رشد و ہدایت، درس و تدریس، خطابت اور شعر و سخن ان کی زندگی کے نمایاں میدان ہیں، خانقاہی روایت کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک صاحبِ طرز نعت گو شاعر، مؤثر خطیب اور کامیاب مربی کی حیثیت سے بھی معروف ہیں، ان کے فیضِ تربیت سے سیکڑوں شاگرد مستفید ہوئے، جب کہ ہزاروں مریدین اور لاکھوں معتقدین ان کے روحانی حلقۂ ارادت سے وابستہ ہیں، ادبی میدان میں بھی امجد ربانی نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، ان کی تصانیف میں تخیلات، سخنورانِ عزت اور تخیلاتِ نعتِ نبی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں جن میں ان کے فکری شعور، ادبی ذوق اور نعتیہ جمالیات کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے، ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں اردو اکیڈمی، مدھیہ پردیش نے انہیں انعام سے نوازا، جبکہ جدالشعرا اور شیخ العالم جیسے اعزازی خطابات بھی ان کے علمی و ادبی مقام کے مظہر ہیں، نعتیہ شاعری کے میدان میں امجد ربانی کا شمار عصرِ حاضر کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے، نئی نسل کے نعت گو شعرا میں خصوصاً ہند و پاک کے ادبی منظرنامے پر ان کا اسلوب اپنی انفرادیت، فکری گہرائی اور فنی وقار کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے، ان کے کلام میں کلاسیکی روایت کی متانت اور عصری حسیت کی تازگی نہایت خوش اسلوبی سے یکجا ہوگئی ہے، وہ لہجہ ساز شاعر ہیں، ان کے مضامین میں غیر معمولی تنوع، افکار میں گیرائی اور معانی میں تہہ در تہہ وسعت پائی جاتی ہے، ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول کی وارفتگی، لفظ و معنی کی لطافت اور فنی ندرت کا ایسا حسین امتزاج پیش کرتی ہے جو اہلِ ذوق کو دیر تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے