Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

اسرار علی شائق

1898 - 1978 | بدایوں, بھارت

درگاہ حضرت مذاق میاں، بدایوں کے سجادہ نشیں

درگاہ حضرت مذاق میاں، بدایوں کے سجادہ نشیں

اسرار علی شائق کا تعارف

تخلص : 'شائق'

اصلی نام : اسرار علی

پیدائش : 27 May 1898 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 07 May 1978 | اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : مذاق بدایونی (دادا), ایثار علی ذائقؔ (والد)

اسرائیل علی ملقب بہ “چھوٹے میاں” مولوی ایثار علی شائق بدایونی کے فرزند اور بدایوں کے محلہ قاضی ٹولہ کے معزز خانوادۂ بنو حمید سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 27 مئی 1898ء کو اپنے آبائی مکان میں ہوئی، ابتدائی تعلیم آپ نے میاں غلام ردو اور ماسٹر عبدالصمد کے مکتب میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول سے امتحان پاس کیا مگر رسمی تعلیم کو یہیں ترک کر کے راہِ فقر اختیار کر لی، روحانی سفر میں آپ نے اپنے والدِ گرامی ایثار علی شاہ شائق بدایونی کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور ان ہی سے خرقۂ خلافت حاصل کیا، اس نسبت نے آپ کی باطنی زندگی کو ایک خاص رنگِ سلوک عطا کیا، 1928ء میں آپ نے فریضۂ حج ادا کیا اور 1960ء میں والد کے وصال کے بعد سجادہ نشینی کے منصب پر فائز ہوئے، جہاں آپ نے ارشاد و ہدایت کے فرائض نہایت وقار اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے، 28 جمادی الاول 1398ھ مطابق 7 مئی 1978ء کو آپ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اپنے رب سے جا ملے، آپ کی زندگی زہد، تقویٰ اور فقر و درویشی کی ایک روشن مثال تھی، ادبی حیثیت سے بھی آپ ایک صاحبِ ذوق شاعر تھے، طالب علمی ہی سے شاعری کا شوق رکھتے تھے اور اپنے والد سے اصلاحِ سخن لیا کرتے تھے، ابتدا میں آپ نے متنوع شعری اصناف میں طبع آزمائی کی، یہاں تک کہ ایک زمانے میں ردیف وار بہاریہ کلام کا ایک دیوان “اسرارِ شائق” کے نام سے مرتب کیا مگر بعد ازاں اپنی شاعری کو نعت و منقبت تک محدود کر دیا، جہاں ان کے کلام میں عقیدت، سوز اور روحانی کیف کا حسین امتزاج ملتا ہے، آپ نے متعدد کتب بھی مرتب کیں، تاہم بیشتر اشاعت سے محروم رہیں، ان کی مطبوعہ تصنیف “اخلاق النبی” 1972ء میں منظرِ عام پر آئی، جبکہ غیر مطبوعہ تصانیف میں “کلیاتِ ذائق بدایونی”، “سوانحِ حیات شاہ محمد ایثار علی”، “کلیاتِ شائق بدایونی” اور “سوانحِ شاہ ایثار علی” (مخطوطہ) قابلِ ذکر ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے