عطا بدایونی کا تعارف
عطا محمد ولد وزیرالدین احمد، محلہ قاضی ٹولہ کے ساکن تھے اور شیوخِ صدیقی کی شاخ، خاندانِ متولیان سے تعلق رکھتے تھے، وہ بدایوں کے معروف شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں، آپ کی ولادت 1864 میں بدایوں میں ہوئی، آپ کے والد سرکاری وکیل تھے، اسی مناسبت سے آپ نے بھی اسی پیشے سے وابستگی اختیار کی اور اس میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی، ابتدائی دور میں آپ کا رجحان محض بہاریہ شاعری کی طرف تھا اور اس سلسلے میں آپ امجد بدایونی سے اصلاح لیتے تھے، بعد ازاں آپ نے داغ دہلوی کے حلقۂ تلامذہ میں شمولیت اختیار کی، جس کے نتیجے میں آپ کو ادبی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، آپ کے شاگردوں میں حمزہ صدیقی اور سخاوت حسین سخاوت کے نام بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں، روحانی اعتبار سے آپ سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے اور حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی سے بیعت و خلافت حاصل کی، 1910 میں آپ نے فریضۂ حج ادا کیا اور اس کے بعد اپنی شاعری کو نعت و منقبت تک محدود کر دیا، آپ کا انتقال 1944 میں ہوا اور بدایوں ہی میں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا، عطا محمد ایک صاحبِ دیوان شاعر تھے مگر افسوس کہ ان کا دیوان شائع نہ ہوسکا، نعتیہ کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے لیکن اب ان کا سراغ نہیں۔