اظہر قادری کا تعارف
تخلص : 'اظہر'
اصلی نام : محمد اظہرالدین
وفات : 04 Oct 2015
رشتہ داروں : کبیر احمد شکیلؔ (مرشد), تمیم نظام آبادی (مرشد)
محمد اظہرالدین جن کا تخلص اظہر تھا اور روحانی نسبت سے قادری کہلاتے تھے، ان کا آبائی وطن بودھن، نظام آباد تھا، انہوں نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کی، جس کے بعد محکمۂ انکم ٹیکس میں ملازمت اختیار کی، ابتدائی زمانے میں انہیں بودھن اور شکر نگر کے ادبی و شعری ماحول سے گہرا اثر ملا، جس کے نتیجے میں ان کے اندر بھی ادبی ذوق پروان چڑھا اور انہوں نے شاعری کا آغاز کیا، انہوں نے فنِ عروض کی باقاعدہ تربیت گوہر کریم نگری سے حاصل کی اور بعد ازاں خود بھی منصبِ استادی پر فائز ہوئے، ان سے استفادہ کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں اشفاق اصفی، کبیر احمد شکیل، ڈاکٹر عبدالنعیم سلیم، تمیم نظام آبادی اور ڈاکٹر مبشر احمد نشتر جیسے نام نمایاں ہیں، اگرچہ انہوں نے غزل اور قطعات وغیرہ میں بھی طبع آزمائی کی، تاہم نعت گوئی ان کا محبوب ترین میدان تھا، اس ذوق کی ابتدائی بنیاد اس وقت پڑی جب انہوں نے اپنے ابتدائی دور میں نظام آباد اور بودھن کے معروف عالم و ادیب محمود عالم سالک کی بعد نمازِ فجر تفسیرِ قرآن کو برسوں تک سماعت کیا، جس نے ان کے اندر دینی و روحانی رجحان کو مزید مستحکم کیا، وہ ایک نعتیہ مشاعرے میں شرکت کے لیے اپنے چند احباب کے ساتھ برہان پور گئے ہوئے تھے کہ وہاں اچانک قلبی عارضے کے باعث 4 اکتوبر 2015ء کو ان کا انتقال ہوگیا، افسوس کہ ان کا کوئی باقاعدہ شعری یا نعتیہ مجموعہ زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہوسکا۔