بدر عالم بدرؔ کا تعارف
مولانا بدر عالم، ساکن محلہ سوتھا، بدایوں کے معزز سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 1888ء میں بدایوں میں ہوئی، ابتدائی علمی تربیت کے بعد آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کے لیے مدرسہ مظاہرالعلوم، سہارنپور کا رخ کیا، جہاں سے فراغت کے بعد محض بیس برس کی عمر میں اسی ادارے میں دو سال تک تدریسی خدمات انجام دیں، بعد ازاں آپ دارالعلوم، دیوبند گئے اور وہاں مولانا انور شاہ کشمیری کی خدمت میں حاضر ہو کر علمی فیض حاصل کیا اور دارالعلوم میں منصبِ تدریس سے وابستہ ہو گئے، کچھ عرصے بعد آپ دہلی منتقل ہوئے، جہاں مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی اور مولانا عتیق الرحمٰن عثمانی کے ہمراہ ندوۃ المصنفین کے قیام میں سرگرم حصہ لیا، جو اس عہد کی ایک اہم علمی و فکری پیش رفت تھی، تقسیمِ ہند کے بعد آپ کراچی ہجرت کر گئے، جہاں آپ نے اپنی علمی و دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا، 1953ء میں آپ کو حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی، بالآخر 29 اکتوبر 1965ء کو مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا اور آپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا جو آپ کے لیے ایک عظیم روحانی اعزاز ہے، مولانا بدر عالم اپنے عہد کے جید عالم، بلند پایہ محقق اور صاحبِ تصنیف شخصیت تھے، آپ نے متعدد علمی و دینی کتب یادگار چھوڑیں، جن میں فیض الباری، ترجمان السنہ، زبدۃ المناسک، الحرب الاعظم، نزولِ عیسیٰ اور جواہر الحکم خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، شاعری میں آپ کا رجحان نعت گوئی کی طرف تھا اور آپ نے اسی صنف کو اپنے ذوقِ سخن کا محور بنایا۔