Font by Mehr Nastaliq Web
Bekal Utsahi's Photo'

بیکل اتساہی

1928 - 2016 | بلرام پور, بھارت

اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور سیاست دان تھے، جن کی شاعری قومی یکجہتی، صوفیانہ فکر اور انسانی محبت کی ترجمان ہے۔

اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور سیاست دان تھے، جن کی شاعری قومی یکجہتی، صوفیانہ فکر اور انسانی محبت کی ترجمان ہے۔

بیکل اتساہی کا تعارف

تخلص : 'بیکل'

اصلی نام : محمد شفیع خان

پیدائش : 01 Jun 1928 | بلرام پور, اتر پردیش

وفات : 03 Dec 2016 | دہلی, بھارت

بیکل اتساہی (1928ء–2016ء) اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، ادیب، نغمہ نگار اور سیاست دان تھے، آپ کا اصل نام محمد شفیع خاں تھا، یکم جون 1928ء کو بلرامپور کے گاؤں رمواں پور میں پیدا ہوئے، آپ نے 1944ء میں اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا اور ابتدا میں ’’بے کل وارثی‘‘ تخلص اختیار کیا، تاہم بعد میں جواہر لعل نہرو کی جانب سے ’’اتساہی شاعر‘‘ کہے جانے کے بعد ’’بیکل اتساہی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے، بیکل اتساہی کی شاعری قومی یکجہتی، انسانی محبت، صوفیانہ فکر، حب الوطنی اور تہذیبی ہم آہنگی کی ترجمان ہے، انہوں نے اردو، ہندی اور اودھی زبانوں میں متعدد اہم تصانیف یادگار چھوڑیں، جن میں باپو کا سپنا، پرویا، اپنی دھرتی چاند کا درپن، غزل ساوری، رنگ ہزار خوشبو ایک اور غزل گنگا خاص طور پر معروف ہیں، ادبی خدمات کے ساتھ وہ عملی سیاست سے بھی وابستہ رہے، کانگریس کے سرگرم رکن رہے اور راجیہ سبھا کے رکن نامزد کیے گئے، حکومتِ ہند نے انہیں 1976ء میں پدم شری سے نوازا، جبکہ اترپردیش حکومت نے یش بھارتی اعزاز عطا کیا، صوفیانہ مزاج، عوامی شاعری اور قومی ہم آہنگی کے فروغ میں ان کی خدمات اردو و ہندی ادب کا اہم سرمایہ ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے