Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

بیتاب علی پوری

1932 | ہریانہ, بھارت

ممتاز شاعر، نثر نگار اور ہومیوپیتھک معالج تھے، جو غزل کے ساتھ نعت گوئی میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے اور ان کے شعری مجموعوں ’’غنچہ و گل‘‘، ’’بیتابیاں‘‘ اور ’’سوغات‘‘ نے ادبی شناخت قائم کی۔

ممتاز شاعر، نثر نگار اور ہومیوپیتھک معالج تھے، جو غزل کے ساتھ نعت گوئی میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے اور ان کے شعری مجموعوں ’’غنچہ و گل‘‘، ’’بیتابیاں‘‘ اور ’’سوغات‘‘ نے ادبی شناخت قائم کی۔

بیتاب علی پوری کا تعارف

تخلص : 'بیتاب'

اصلی نام : راما نند

پیدائش : 17 Mar 1932 | مظفر گڑھ, پنجاب

بیتاب علی پوری کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے تقسیمِ ہند کے بعد کے ادبی منظرنامے میں اپنی انفرادی شناخت قائم کی، آپ 17 مارچ 1932ء کو مظفرگڑھ کے قصبہ علی پور میں ڈاکٹر آسانند کے گھر پیدا ہوئے، تقسیمِ ملک کے نتیجے میں آپ کا خاندان ہجرت کرکے ہندوستان آگیا، ابتدا میں پانی پت کو اپنا مسکن بنایا، بعد ازاں سونی پت میں مستقل سکونت اختیار کی، جہاں آپ نے اپنی علمی، ادبی اور عملی زندگی کے متعدد اہم مراحل طے کیے، تعلیم کے میدان میں آپ نے بی۔اے اور ادیبِ فاضل کی اسناد حاصل کیں، پیشے کے اعتبار سے آپ ایک ماہر ہومیوپیتھک معالج تھے، تاہم ادب خصوصاً شاعری سے آپ کی وابستگی زمانۂ طالب علمی ہی سے استوار ہوگئی تھی، شعری ذوق کی آبیاری کے لیے ابتدا میں جوش ملسیانی اور شہید علی پوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی، بعد ازاں آپ نے جے رام داس فلک اور غلام حسین رئیس نیازی سے بھی مشورۂ سخن کیا، بیتاب علی پوری بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، ان کے شعری سرمایے میں "غنچہ و گل"، "بیتابیاں" اور "سوغات" کے عنوان سے شائع ہونے والے مجموعۂ غزلیات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، غزل کے علاوہ نثر نگاری میں بھی انہوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، "سفینہ"، "لہریں" اور "دردِ مشترک" ان کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہیں، ادب کے ساتھ ساتھ طب سے ان کی وابستگی بھی نہایت گہری تھی، انہوں نے  ہومیوپیتھی پر ایک منفرد منظوم تصنیف بھی پیش کی، مزید برآں نعت کی صنف میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی اور حضرت رسول اللہ کی بارگاہِ اقدس میں عقیدت و محبت کے جذبات کو نہایت والہانہ انداز میں منظوم کیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے