Font by Mehr Nastaliq Web
Bismil Azimabadi's Photo'

بسمل عظیم آبادی

1901 - 1978 | پٹنہ, بھارت

اردو کے ممتاز انقلابی شاعر اور مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے شہرۂ آفاق نظم "سرفروشی کی تمنا" تخلیق کر کے تحریکِ آزادی کو ولولۂ تازہ بخشا اور اردو شاعری میں حب الوطنی، حریتِ فکر اور انقلابی جذبے کی روشن مثال قائم کی۔

اردو کے ممتاز انقلابی شاعر اور مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے شہرۂ آفاق نظم "سرفروشی کی تمنا" تخلیق کر کے تحریکِ آزادی کو ولولۂ تازہ بخشا اور اردو شاعری میں حب الوطنی، حریتِ فکر اور انقلابی جذبے کی روشن مثال قائم کی۔

بسمل عظیم آبادی کا تعارف

تخلص : 'بسمل'

اصلی نام : محمد حسن

پیدائش :پٹنہ, بہار

وفات : بہار, بھارت

رشتہ داروں : شاد عظیم آبادی (مرشد)

بسمل عظیم آبادی کا اصل نام محمد حسن تھا، آپ 1901ء میں بہار کے تاریخی شہر پٹنہ میں ایک معزز زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد شاہ آلِ حسن پیشے کے اعتبار سے بیرسٹر تھے لیکن بسمل کی کم عمری ہی میں ان کا انتقال ہوگیا، آپ کے خاندان میں علم و ادب کا گہرا ذوق پایا جاتا تھا، آپ کے نانا شاہ مبارک حسین مبارک اور ماموں خان بہادر شاہ کمال بھی قادرالکلام شاعر تھے، بسمل عظیم آبادی نے ایک ایسے علمی و ادبی ماحول میں پرورش پائی جہاں شعر و سخن کو خاص اہمیت حاصل تھی، اسی فضا نے ان کے اندر اردو شاعری سے شغف پیدا کیا، انہوں نے بسمل تخلص اختیار کیا، جس کے معنی زخمی یا مجروح کے ہیں اور مشہور شاعر شاد عظیم آبادی کی شاگردی اختیار کی، آپ اکثر انجمن ترقی اردو لائبریری، پٹنہ میں علمی و ادبی نشستوں میں شریک رہتے تھے اور جلد ہی پٹنہ کے ممتاز شعرا میں شمار ہونے لگے، بسمل نہ صرف شاعر تھے بلکہ تحریکِ آزادی کے سرگرم رکن بھی تھے، ان کے اندر قومی حمیت اور آزادی کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود تھا، 1920ء میں انہوں نے کلکتہ کانگریس اجلاس میں شرکت کی اور اپنا انقلابی کلام سنایا، جلیانوالہ باغ کے المناک سانحے اور انگریزوں کے مظالم سے متاثر ہوکر 1921ء میں انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق نظم “سرفروشی کی تمنا” تحریر کی، جو بعد میں تحریکِ آزادی کا ولولہ انگیز ترانہ بن گئی، اس نظم کو مجاہدِ آزادی رام پرساد بسمل نے اپنے انقلابی نعروں کے طور پر استعمال کیا، جس کے باعث یہ نظم پورے برصغیر میں غیر معمولی شہرت حاصل کر گئی، بسمل کی بیشتر تخلیقات ضائع ہوگئیں، تاہم جو کلام محفوظ رہا اسے 1980ء میں “حکایتِ ہستی” کے عنوان سے شائع کیا گیا، ان کا کلام مختلف علمی و ادبی اداروں، لائبریریوں اور جامعات کے ذخائر میں محفوظ ہے، ان کی شاعری میں حب الوطنی، حریتِ فکر، انقلابی جذبہ اور کلاسیکی اردو غزل کی لطافت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے، 20 جون 1978ء کو بسمل کا انتقال پٹنہ میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے