Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

برہم ناتھ دت

1891 - 1975 | گورداسپور, بھارت

موہیال برہمن خاندان کے ممتاز شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر دانشور تھے، حکیم فیروزالدین فیروز طغرائی کے شاگرد رہے اور 1969ء میں پدم شری سے نوازے گئے۔

موہیال برہمن خاندان کے ممتاز شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر دانشور تھے، حکیم فیروزالدین فیروز طغرائی کے شاگرد رہے اور 1969ء میں پدم شری سے نوازے گئے۔

برہم ناتھ دت کا تعارف

تخلص : 'قاصر'

اصلی نام : برہم ناتھ دت

پیدائش :گورداسپور, پنجاب

وفات : 25 Nov 1975

برہم ناتھ دت ایک ممتاز علمی و ادبی شخصیت تھے جن کا تعلق موہیال برہمن خاندان سے تھا، ان کے والد چودھری گوران دتا ملدت صاحبِ علم و فضل اور علم و دانش کے حامل بزرگ تھے، برہم ناتھ دت کی پیدائش 14 ستمبر 1891ء کو شکر گڑھ، گرداس پور میں ہوئی، انہوں نے تعلیم کے مختلف مدارج طے کیے، ملازمت سے بھی وابستہ رہے اور کاروبار کے میدان میں بھی قدم رکھا، تاہم ان کی اصل شناخت شعر و ادب کے حوالے سے قائم ہوئی، شعر گوئی کا آغاز انہوں نے 1907ء میں کیا اور 1912ء میں جامع کمالات، حکیم فیروزالدین فیروز طغرائی کی شاگردی اختیار کی، استاد کی رہنمائی نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور ان کی ادبی شخصیت بتدریج پختگی کی منزلوں سے ہم کنار ہوئی، وہ محض شاعر ہی نہ تھے بلکہ نہایت ذہین، وسیع المطالعہ اور صاحبِ فکر انسان تھے، شعر و ادب کے ساتھ سیاسی اور قومی سرگرمیوں میں بھی فعال حصہ لیتے رہے اور سیاسی تحریکوں کے زمانے میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، برہم ناتھ دت کا علمی و ادبی سرمایہ خاصا متنوع اور گراں قدر ہے، ان کی یادگار تصانیف میں ’’جواہر پارے‘‘ (1922ء)، ’’ڈال ڈال پات پات‘‘ (مکتوبات، 1960ء)، ’’پرچمِ ضیا‘‘ (1961ء)، ’’برگ و بار‘‘ (1963ء)، ’’اہلِ سیف‘‘ (1964ء)، ’’ہومر‘‘ (1965ء)، ’’میرا بھائی‘‘ (1966ء) اور ’’ذکر و فکر‘‘ (1967ء) شامل ہیں، ان تصانیف سے ان کے وسیع مطالعے، گوناگوں علمی دلچسپیوں اور فکری وسعت کا اندازہ ہوتا ہے، ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف حکومتِ ہند نے بھی کیا اور 1969ء میں انہیں ’’پدم شری‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا، ان کا انتقال 25 نومبر 1975ء کو ہوا، ان کی تصانیف آج بھی ان کی علمی بصیرت، ادبی عظمت اور وسیع المشربی کی یادگار ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے