برج موہن امرتسری کا تعارف
برج موہن لال تکو زیبا ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی استعداد، ادبی ذوق اور شعری صلاحیت کی بنا پر اردو ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا، وہ بنیادی طور پر امرتسر کے باشندہ تھے اور تدریسی شعبے سے وابستہ رہے، ہندو کالج، امرتسر میں بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ ادب کی ترویج اور شعری روایت کے فروغ میں بھی مؤثر کردار ادا کیا، انہوں نے گریجویشن تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی، انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنے فنی شعور اور سلیقۂ اظہار کے ذریعے اہلِ ذوق سے داد و تحسین حاصل کی، ان کے عہد کے معروف ادبی رسالے "چمن" (امرتسر) میں ان کا کلام باقاعدگی سے شائع ہوتا تھا، اسی رسالے میں ان کی ایک غزل "زمزمۂ تغزل" کے عنوان سے شائع ہوئی، غزل گوئی کے علاوہ انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا، ان کے نعتیہ اشعار بارگاہِ رسالت مآب سے قلبی وابستگی، احترام اور روحانی محبت کے آئینہ دار ہیں۔