چھٹیو داس کا تعارف
بابا چھٹیو داس کا تعلق بڑھئی برادری سے تھا اور وہ جگدیس پور، سلطان پور کے رہنے والے تھے، ہندی زبان و ادب میں انہیں اچھی مہارت حاصل تھی، جس کا اظہار ان کی شاعری میں جگہ جگہ نمایاں ہوتا ہے، انہوں نے شعر و سخن کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنے تخلیقی ذوق کی ہمہ گیری کا ثبوت دیا، بھجن، ٹھمری، لاونی، برج کی ہولی، چوماسہ، بارہ ماسہ اور کبت وغیرہ اصناف میں انہوں نے اپنے جذبات و احساسات کو شعری پیکر عطا کیا، بابا چھٹیو داس کی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر پہلو ان کے مذہبی و فکری رجحانات سے بھی متعلق ہے، انہیں مردوں کو جلانے کا طریقہ پسند نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں یہ وصیت کردی تھی کہ ان کے انتقال کے بعد انہیں جلانے کے بجائے دفن کیا جائے، ان کی اس وصیت کا احترام کیا گیا اور وفات کے بعد ان کی تدفین ان ہی کے باغ میں عمل میں آئی۔