Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

دلو رام کوثری

1882 | ہسار, بھارت

غیر مسلم نعت گو سے مسلمان عاشقِ رسول بننے والی منفرد ادبی شخصیت تھے۔

غیر مسلم نعت گو سے مسلمان عاشقِ رسول بننے والی منفرد ادبی شخصیت تھے۔

دلو رام کوثری کا تعارف

تخلص : 'کوثری'

اصلی نام : دلو رام

پیدائش :ہسار, ہریانہ

چودھری دلورام کوثری برصغیر کے ان نادر روزگار نعت گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غیر مسلم ہونے کے باوجود عشقِ رسولِ اکرم کو اپنی زندگی اور شاعری کا محور بنایا، ان کی ولادت لاہور میں ہوئی، ان کا اصل نام چودھری دلورام تھا جبکہ ان کے والد کا نام بھورا رام تھا، دلورام کوثری ان کا تخلص تھا، اپنی غیر معمولی نعت گوئی، قادرالکلامی اور فنی عظمت کے باعث وہ فردوسیِ ہند، قادرالکلام اور حسان الہند جیسے معزز القابات سے بھی یاد کیے جاتے ہیں، ابتدائی دور میں وہ ہندو مذہب سے وابستہ تھے لیکن سیرتِ نبوی اور مدحتِ رسول سے ان کی والہانہ وابستگی روز بروز بڑھتی گئی، نعت گوئی ان کے لیے محض ایک شعری مشق نہ تھی بلکہ ایک قلبی واردات اور روحانی وابستگی کی صورت اختیار کر گئی تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کے نعتیہ رجحانات کو ان کے ہم مذہب افراد نے پسند نہیں کیا، انہیں شدید مخالفت، ملامت، طعن و تشنیع اور تنگ نظری کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ انہیں اس راہ سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن وہ اپنے شوقِ نعت اور محبتِ رسول سے کبھی دست بردار نہ ہوئے، بالآخر یہی عشقِ رسول ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور کوثر علی کوثری نام اختیار کیا، نعتیہ ادب کو انہوں نے متعدد اہم تصانیف سے مالا مال کیا، ان کی معروف کتابوں میں ہندو کی نعت اور منقبت (مرتبہ خواجہ حسن نظامی، حلقۂ مشائخ بک ڈپو، دہلی، 1924ء)، بشارتِ انجیل، گلبنِ نعتِ کوثری اور آبِ کوثر شامل ہیں، 28 دسمبر 1931ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں سپردِ خاک کیے گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے