ڈاکٹر شاہ خسرو حسینی کا تعارف
سید شاہ خسرو حسینی (10 ستمبر 1945ء – 6 نومبر 2024ء) برصغیر کے ممتاز صوفی، ماہرِ تعلیم اور سماجی رہنما تھے، آپ گلبرگہ میں واقع درگاہ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے سجادہ نشیں اور سلسلۂ چشتیہ کے نمایاں نمائندہ تھے، آپ نے روحانیت، جدید تعلیم اور سماجی خدمت کو یکجا کرتے ہوئے جنوبی ہند میں تعلیمی و رفاہی سرگرمیوں کو فروغ دیا، آپ نے جامعہ عثمانیہ سے عربی میں ایم اے اور کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی سے اسلامیات و تصوف میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، آپ کی کوششوں سے 2000ء میں خواجہ بندہ نواز طبی علوم ادارہ اور 2018ء میں خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی قائم ہوئی جو آج اعلیٰ تعلیم کے اہم مراکز میں شمار ہوتی ہیں، 2007ء میں سجادہ نشیں بننے کے بعد آپ نے خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں اصلاحات نافذ کیں، 2023ء میں آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر منتخب ہوئے، آپ ایک صاحبِ قلم مصنف اور شاعر بھی تھے، جن کی نمایاں تصانیف میں سید محمد الحسینی گیسو دراز تصوف کے تناظر میں، وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اور بندِ سما شامل ہیں، تعلیم اور سماجی خدمات کے اعتراف میں آپ کو 2017ء میں کرناٹک راجیو تسوا ایوارڈ اور 2018ء میں محسنِ ملت ایوارڈ سے نوازا گیا، 6 نومبر 2024ء کو آپ کا انتقال ہوا، آپ اپنے پیچھے ایک عظیم روحانی، علمی اور تعلیمی ورثہ چھوڑ گئے، جسے آج بھی آپ کے قائم کردہ ادارے کو آپ کے جانشیں حافظ سید شاہ علی حسینی آگے بڑھا رہے ہیں۔