فیاض علی عروجؔ کا تعارف
سید فیاض علی عرفیت عروج ولد سید نوشہ علی زیدی، محلہ سوتھا شہباز پور کے رہنے والے تھے اور خاندانِ سادات کی شاخِ زیدی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 25 ستمبر 1912 کو ضلع میرٹھ کے ہاپوڑ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم و تربیت ہاپوڑ ہی میں حاصل کی، جبکہ علومِ متداولہ کی تکمیل بدایوں میں کی، آپ نے 1925 تا 1930 کے دوران شاعری کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنے عہد کے معتبر شعرا میں شمار ہونے لگے، آپ کے شعری مجموعوں میں عروج کے سو شعر (1942)، جھلکیاں (بدایوں، 1953)، دل لخت لخت (1967)، شمع فروزاں (1976)، سفینۂ غزل (1978) اور لہجے کا چراغ (1989) قابلِ ذکر ہیں، نثر کے میدان میں بھی آپ نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور زندہ کتبے کو آپ کی نثری تصنیف کا ایک نمایاں شاہکار سمجھا جاتا ہے، نعتیہ کلام کا مجموعہ ختم المرسلیں آپ کے انتقال کے بعد 1990 میں اعلیٰ پریس، رامپور سے شائع ہوا، سید فیاض علی عروج کا انتقال 4 فروری 1987 کو ہوا۔