فخر گیاوی کا تعارف
مولانا محمد فخر الدین گیاوی (1913ء–1988ء) برصغیر کے ممتاز دینی عالم، نعت گو شاعر، ماہرِ قرات، مدرس اور منتظم تھے، آپ کی ولادت گیا، بہار میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا محمد خیرالدین گیاوی سے حاصل کی، بعد ازاں مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ، ٹونک اور پھر دارالعلوم دیوبند سے 1938ء میں فراغت حاصل کی، جہاں آپ نے مولانا حسین احمد مدنی سمیت متعدد علما سے استفادہ کیا، زمانۂ طالب علمی میں آپ نے ماہنامہ البیان کی ادارت کی اور ادبی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، فراغت کے بعد رنگون (برما) میں تدریسی خدمات انجام دیں اور جامعہ قاسمیہ کی بنیاد رکھی، وطن واپسی کے بعد 1941ء سے وفات تک تقریباً 47 برس مدرسہ قاسمیہ اسلامیہ، گیا کے مہتمم رہے اور ادارے کو نمایاں ترقی دی، آپ مولانا حسین احمد مدنی کے خلفا میں شمار ہوتے تھے، عربی، فارسی اور اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے اور فخر تخلص سے شہرت پائی، آپ کی شاعری میں حمد، نعت، تصوف اور اصلاحِ معاشرہ کے موضوعات نمایاں ہیں، درسِ حیات، نورِ ایماں، نوائے درد اور نذرِ عقیدت آپ کی اہم تصانیف ہیں، آپ کا وصال 9 فروری 1988ء مافق 2 جمادی الاخریٰ 1408ھ کو گیا میں ہوا، نمازِ جنازہ سید اسعد مدنی نے پڑھائی، آپ نے علمی، روحانی، تدریسی اور ادبی خدمات کی ایک روشن روایت اپنے پیچھے چھوڑی۔