فصیح الزماں خان فصیحی کا تعارف
مولوی محمد فصیح الزماں خاں صدیقی جن کا آبائی وطن قصبہ فرخ آباد (چلاواں)، ضلع بجنور تھا، بریلی میں پیدا ہوئے، آپ کی تاریخِ پیدائش 1856ء مطابق 1273ھ ہے، 1857ء کے ہنگاموں کے بعد آپ اپنے والدین کے ہمراہ بریلی سے رامپور منتقل ہوگئے، بچپن میں آپ کا رجحان تعلیم کی طرف زیادہ نہ تھا، چنانچہ ابتدا میں مکتب بھی بٹھائے گئے مگر دل نہ لگ سکا، بعد ازاں مولوی سدید احمد علی فرخ آبادی سے تعلیم حاصل کی، جب نواب صدیق حسن خاں بھوپالی رامپور تشریف لائے تو آپ نے ان سے بھی استفادہ کیا، ان کے بھوپال واپس جانے کے بعد آپ کی تعلیم کے لیے مولانا عبداللہ (نوتنی، اٹاوہ) مامور کیے گئے، جن سے آپ نے ہدایۃ النحو تک تعلیم حاصل کی، روحانی طور پر آپ مولوی سبحان شاہ سے بیعت تھے، ان کے انتقال کے بعد آپ پر ایک خاص کیفیتِ جذب طاری ہوگئی، بعد ازاں آپ نے حضرت حاجی عبدالقادر خاں سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت کی، جس کے بعد ذکر و اذکار کے ساتھ ساتھ کتب بینی کا شوق بھی پیدا ہوا، مطالعے کا ذوق اس قدر بڑھا کہ جو کچھ میسر آتا کتابوں پر صرف کر دیتے، آپ مولوی مسیح الدین خاں، مولوی سید حسن شاہ محدث، اور مولوی مفتی سعداللہ جیسے جید علما کی صحبت میں حاضر رہتے اور ان سے فیض حاصل کرتے رہے، اس صحبتِ صالح نے آپ کی علمی و ادبی شخصیت کو جلا بخشی، یہاں تک کہ آپ کے کمالات دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے، آپ کا فارسی دیوان مختلف اصنافِ سخن پر مشتمل تھا، اگرچہ غیر مرتب تھا، اردو میں بھی آپ شعر کہتے تھے اور اپنا کلام امیر مینائی کو دکھایا کرتے تھے، حاجی عبدالقادر خاں کے انتقال کے بعد آپ نے حضرت شاہ علی نقی قادری (بانگر، مئو) سے تجدیدِ بیعت کی، بالآخر 11 جمادی الاولی 1311ھ، شبِ شنبہ کو تقریباً 38 یا 39 برس کی عمر میں عارضۂ تپ کے باعث آپ کا انتقال ہوگیا۔