غنی کشمیری کا تعارف
محمد طاہر جو غنی کشمیری کے نام سے معروف ہیں، ۱۰۳۹ تا ۱۰۷۹ ہجری ان کا زمانہ بتایا گیا ہے، برصغیر کے معروف فارسی گو شعرا میں ان کا شمار ہوتے ہیں، ان کا تعلق جموں و کشمیر سے تھا، ان کی شاعری کو برصغیر کے عظیم شعرا مثلاً میر تقی میر، علامہ اقبال اور سعادت حسن منٹو نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اپنی تحریروں میں ان کے اشعار کا حوالہ دیا ہے، بعض روایات کے مطابق مرزا غالب نے ان کے چالیس اشعار کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا، غنی کشمیری کا تعلق کشمیری خاندان آشائی سے تھا، وہ سری نگر کے علاقے راجوری کادال میں مقیم تھے اور اپنے دور کے نامور عالم ملا محسن فانی کشمیری کے شاگردوں میں شامل تھے، انہوں نے اپنی بیشتر شاعری شاہجہان اور اورنگ زیب کے عہد میں تخلیق کی، بعد ازاں اورنگ زیب نے انہیں دربار میں بھی طلب کیا، جہاں انہوں نے بادشاہ کے لیے ایک مرثیہ بھی پیش کیا، کہا جاتا ہے کہ غنی کشمیری اشعار کہتے وقت بعض اوقات انہیں ترنم کے ساتھ بھی پڑھا کرتے تھے جس سے ان کی شاعری میں تاثیر اور بھی بڑھ جاتی تھی، وہ کم عمری ہی میں وفات پا گئے ان کی عمرِ وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض محققین کے مطابق وہ تقریباً اکتالیس سال کے تھے، انہیں سری نگر ہی میں سپردِ خاک کیا گیا۔