Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

غلام مشہود مضطرؔ

- 1924 | بدایوں, بھارت

نعتیہ شاعری میں سوز، گداز اور عشقِ رسول کی تڑپ کے نمائندہ شاعر۔

نعتیہ شاعری میں سوز، گداز اور عشقِ رسول کی تڑپ کے نمائندہ شاعر۔

غلام مشہود مضطرؔ کا تعارف

تخلص : 'مضطر'

اصلی نام : غلام مشہود

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : علی احمد خان اسیرؔ (مرشد)

غلام مشہود، بدایوں کے محلہ سوتھا میں خاندانِ بخوش سے تعلق رکھتے تھے، فنِ شاعری میں انہیں اسیر بدایونی سے تلمذ حاصل تھا، وہ انگریزی حکومت میں ملازم رہے، ان کی شادی مولوی حامد بخش حامد بدایونی کی صاحبزادی سے ہوئی، 1908ء میں انہوں نے اہل و عیال کے ہمراہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، ان کا وصال 1924ء میں بدایوں ہی میں ہوا، غلام مشہود کا قلب عشقِ رسول کی تڑپ سے سرشار تھا جو ان کے نعتیہ کلام میں پوری شدت کے ساتھ جھلکتا ہے، ان کے نعتیہ مجموعوں میں ذوقِ نعت (1904ء، نظامی پریس، بدایوں) اور جذباتِ مضطر (1915ء، قادری پریس، بدایوں) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جو ان کے سوز و گداز اور والہانہ عقیدت کے آئینہ دار ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے