غلام محمد ترنمؔ کا تعارف
تخلص : 'ترنم'
اصلی نام : غلام محمد
پیدائش :کشمیر, جموں اور کشمیر
وفات : 24 Jul 1949 | پنجاب, پاکستان
رشتہ داروں : علی حسین اشرفی (مرشد)
غلام محمد ترنمؔ کا تعلق امرتسر کے ایک معزز کشمیری خاندان سے تھا، آپ عبدالغفور کے گھر پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم پروفیسر عبدالرحیم سے حاصل کی مگر حالات کی ناسازگاری کے باعث تعلیمی سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا، معاشی ضرورتوں نے انہیں قالین بافی اور شال بافی جیسے فنون سیکھنے پر آمادہ کیا اور وہ اس میدان میں مہارت حاصل کر گئے، کئی برس تک یہی ہنر ان کے ذریعۂ معاش رہے لیکن قدرت نے انہیں ایک بلند تر مقصد کے لیے منتخب کر رکھا تھا، شعری ذوق اور ادبی شغف نے انہیں اپنے عہد کے معروف استاد شاعر فیروز بن طغرائی کی خدمت میں پہنچایا، انہوں نے فنِ شاعری میں اپنے استاد سے بھرپور استفادہ کیا اور انہی کی رہنمائی میں پہلے “منشی فاضل” اور بعد ازاں “ادیب فاضل” کے امتحانات کامیابی سے پاس کیے، علامہ عرشی جو فیروز بن طغرائی کے جانشیں تھے، نے آپ کے لیے ترنم کا تخلص تجویز کیا جو بعد میں آپ کی ادبی شناخت بن گیا، تقسیمِ ہند سے قبل غلام محمد ترنمؔ امرتسر میں دینیات کے مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، قیامِ پاکستان کے بعد آپ کی شخصیت ایک مؤثر خطیب، بااثر مبلغ اور دینی رہنما کے طور پر نمایاں ہوئی، آپ انجمن تبلیغ احناف امرتسر کے روحِ رواں تھے اور دینی و اصلاحی سرگرمیوں میں نہایت سرگرم کردار ادا کرتے رہے، تاہم پاکستان کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد 24 جولائی 1949ء کو محض انچاس برس کی عمر میں یہ علم و ادب کا چراغ گل ہوگیا اور ترنم داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے، آپ کی دینی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انجمن تبلیغ احناف امرتسر کے اراکین نے بہاولپور روڈ پر آپ کا مزار تعمیر کرایا جو آج بھی ان کی یاد اور خدمات کا مظہر ہے۔