غلام رسول قادری کا تعارف
غلام رسول قادری برصغیر کے ممتاز علما، مبلغینِ اسلام، قرا اور مشائخِ طریقت میں شمار ہوتے ہیں، آپ کی ولادت 1306ھ/1886ء میں کراچی کے قدیم علاقے صدر میں واقع اقصیٰ مسجد کے متصل مکان میں ہوئی، آپ کے والد ماجد حافظ عالم الدین قادری ایک جید عالمِ دین اور صاحبِ تقویٰ شخصیت تھے، جن کی نگرانی میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، آپ نے قرآنِ مجید حفظ کیا اور تجوید و قرات کی تکمیل نامور قرا سے کی، حصولِ علم کی خاطر برصغیر کے مختلف علمی و روحانی مراکز کا سفر کیا اور اپنے عہد کے جلیل القدر علما و مشائخ سے استفادہ کیا، آپ کو مولانا احمد رضا خان بریلوی، مصطفیٰ رضا خان بریلوی، خواجہ شمس الدین سیالوی اور دیگر اکابر اہلِ سنت کی صحبت نصیب ہوئی، آپ نے مدینہ منورہ میں مولانا عبد اللطیف قادری مہاجر مدنی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، بعد ازاں سلسلۂ قادریہ میں خلافت حاصل کی، مزید برآں سندھ کے معروف روحانی خانوادے ساداتِ راشدیہ کے بزرگ محمد باقر علی شاہ راشدی سے بھی فیض حاصل کیا، آپ نے قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کے علاقے سورج گزر میں قادری مسجد کی بنیاد رکھی اور اس کے ساتھ ایک خانقاہی و تبلیغی مرکز قائم کیا، آپ نے امامت، خطابت، وعظ و نصیحت اور اصلاحِ معاشرہ کے ذریعے ہزاروں افراد کی دینی رہنمائی کی۔
1913ء میں آپ نے انجمن حزب الاحناف کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے کراچی میں دینی اجتماعات، محافلِ میلاد، ذکر و اذکار، دروس اور اصلاحی مجالس کا انعقاد کیا جاتا تھا، آپ کی خطابت نہایت مؤثر اور اصلاحی رنگ لیے ہوئے تھی، آپ نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور عوامِ اہلِ سنت میں سیاسی و دینی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، 1946ء میں منعقد ہونے والی سنی کانفرنس کراچی کی صدارت فرمائی جس میں قیامِ پاکستان کے حق میں قرار دادیں منظور کی گئیں، آپ کے قومی و ملی اشعار اس زمانے میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
آپ ایک صاحبِ قلم شخصیت بھی تھے، آپ نے نثر کے مقابلے میں منظوم تصنیفات کو زیادہ ترجیح دی، آپ کی معروف تصانیف میں فیضِ علمی، گلدستۂ غوثیہ، فیضانِ غوثِ اعظم، فیضانِ معین، الافضل السرمدی، تذکرۂ حسینی، تذکرۂ قادریہ، چشتی شمیم، تحفۂ زیارات، بہارِ بخشش اور تحفۂ عیدالاضحیٰ وغیرہ شامل ہیں، آپ کے فرزند مولانا عالم الدین قادری آپ کے سجادہ نشیں مقرر ہوئے اور انہوں نے علمی، دینی اور روحانی خدمات کے ذریعے اس مشن کو آگے بڑھایا، آپ کا وصال 18 جمادی الاول 1391ھ مطابق 13 جولائی 1971ء بروز منگل تقریباً 85 برس کی عمر میں کراچی میں ہوا، آپ کی نمازِ جنازہ میں علما، مشائخ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، آپ کا مزارِ اقدس کراچی کے علاقے سورج گزر میں واقع قادری مسجد کے احاطے میں مرجعِ خلائق ہے۔