غلام یحییٰ حضورؔ کا تعارف
شیخ غلام یحییٰ حضور جو "کجور" کے لقب سے معروف تھے، شاہ محمد اظہر بن شاہ محمد اطہر کے فرزند اور مولوی محمد باقر کے بھتیجے تھے، ان کی تاریخِ ولادت یقینی طور پر معلوم نہیں، البتہ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش پٹنہ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم و تربیت بھی وہیں پائی، ان کے اساتذۂ کرام کے بارے میں مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم ان کے معاصر اور قریبی دوست ابراہیم علی خاں کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم میر محمد باقر سے حاصل کی تھی، علمی ذوق کے ساتھ ساتھ انہیں تصوف سے بھی گہری وابستگی تھی، صاحبِ تذکرۃ الصالحین کے بیان کے مطابق انہیں سلسلۂ چشتیہ میں شرفِ بیعت حاصل تھا اور ان کے مریدین و معتقدین کی تعداد بھی خاصی تھی، شیخ غلام یحییٰ کو اؤلیائے کرام سے والہانہ عقیدت تھی، بالخصوص سلسلۂ ابوالعلائیہ کے نامور بزرگ خواجہ رکن الدین عشقؔ سے انہیں غیر معمولی محبت اور ارادت تھی، اسی عقیدت کے اظہار کے طور پر انہوں نے تقریباً 1190ھ میں درگاہ حضرت شاہ ارزاں، پٹنہ کے حوالے سے ایک مثنوی تصنیف کی، ان کی زندگی کے حالات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پٹنہ سے باہر نکل کر دہلی اور بنارس کا سفر کیا، جس سے ان کے وسیع المشربی اور علمی و ادبی روابط کا اندازہ ہوتا ہے، شیخ غلام یحییٰ حضور کی وفات 7 جمادی الثانی 1206ھ کے لگ بھگ بوقتِ نمازِ جمعہ ہوئی، ان کی ادبی اور شعری تربیت میر محمد باقر حزیں کی سرپرستی میں ہوئی، جو فنِ شاعری میں معروف شاعر مرزا مظہر جانِ جاناں کے شاگرد تھے۔