Font by Mehr Nastaliq Web
Gulzar's Photo'

گلزار

1936 | ممبئی, بھارت

سمپورن سنگھ۔ ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لیے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

سمپورن سنگھ۔ ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لیے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

گلزار کا تعارف

تخلص : 'گلزار'

اصلی نام : سمپورن سنگھ کالرا

پیدائش : 18 Aug 1936 | پنجاب

گلزار برصغیر کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ہدایت کار اور ادیب ہیں، آپ 1934ء میں پاکستان کے شہر جہلم کے قریب واقع قصبہ دینہ میں پیدا ہوئے، آپ کا اصل نام سمپورن سنگھ ہے، تقسیمِ ہند کے بعد آپ کا خاندان بھارت منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور موٹر مکینک کیا، ابتدائی زندگی میں اگرچہ ان کا تعلق ایک غیر ادبی پیشے سے تھا، تاہم شعر و ادب اور فلمی دنیا سے فطری رجحان نے انہیں جلد ہی تخلیقی میدان کی طرف متوجہ کیا اور وہ بتدریج بھارتی فلمی صنعت کا ایک اہم نام بن گئے، گلزار نے نہ صرف ہدایت کار کے طور پر بلکہ ایک باکمال کہانی کار کے طور پر بھی اپنی پہچان قائم کی، ان کی ہدایت کاری میں بننے والی نمایاں فلموں میں اجازت، انگور، معصوم، آندھی، پریچے، موسم اور ماچس شامل ہیں، ان کا مشہور ٹیلی ویژن ڈراما "مرزا غالب" اردو ڈرامہ نگاری میں ایک کلاسیکی حیثیت رکھتا ہے، بطور نغمہ نگار گلزار نے بے شمار فلموں کے لیے یادگار اور مقبول گیت تحریر کیے، ان کی شاعری کی خصوصیت اس کا منفرد اسلوب، علامتی اظہار اور نادر تشبیہات کا استعمال ہے جو ان کے نغموں کو ایک جداگانہ شناخت عطا کرتا ہے، ان کے گیت ماضی میں بھی مقبول رہے اور آج بھی نئی نسل میں یکساں ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔
فلم بنتی اور ببلی کا مقبول گیت "کجرا رے"، فلم اومکارا کا معروف نغمہ "بیڑی جلائی لے" اور فلم کمینے کے گیت ان کی تخلیقی جولانی کی نمایاں مثالیں ہیں جو آج بھی سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں، گلزار کو فلم سلم ڈاگ ملینیئر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر عالمی شہرت یافتہ آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا جو ان کے عالمی ادبی و فنی مقام کا اعتراف ہے، آپ نے اردو، ہندی اور دیگر زبانوں میں شاعری اور نغمہ نگاری کی، جس نے اردو فلمی ادب کو نئی جہتیں عطا کیں، ان کی ادبی و فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے 2004ء میں انہیں پدما بھوشن کے اعزاز سے نوازا، 2009ء میں 11ویں اوشیانز سِنے فین فلم فیسٹیول کی جانب سے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا، ان کے نغموں کے تراجم پر مبنی انگریزی کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے 3 مارچ 2012ء کو اپنے چوتھے کانووکیشن میں انہیں اعزازی ڈی لِٹ سے نوازا، بعد ازاں 2013ء میں انہیں بھارتی سینما کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا، گلزار کی شاعری اور نغمہ نگاری نے اردو اور فلمی ادب میں ایک ایسا منفرد اسلوب قائم کیا ہے جو جذبات، علامت اور سادگی کی خوبصورت آمیزش سے عبارت ہے اور جس کی بازگشت آج بھی سامعین اور قارئین کے دل و دماغ میں محسوس کی جاتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے