گلزار دہلوی کا تعارف
پنڈت آنند موہن زتشی جو ادبی دنیا میں گلزار دہلوی کے نام سے معروف ہیں، برصغیر کے ممتاز، فصیح اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے، آپ مشترکہ تہذیب کے روشن نمائندہ اور اردو زبان و ادب کے عالمی حلقوں میں ایک پہچانا ہوا نام تھے۔
آپ کا تعلق کشمیری پنڈتوں کے معروف زتشی خاندان سے تھا، آپ کی ولادت پنڈت تری بھون ناتھ زتشی (عرف زرؔ دہلوی) اور برج رانی زتشی کے گھر ہوئی، ابتدائی تعلیم آپ نے رام جس اسکول اور بی وی جے سنسکرت اسکول، دہلی میں حاصل کی، بعد ازاں دہلی کے ہندو کالج سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، آپ کے والد پنڈت تری بھون ناتھ زرؔ دہلوی دہلی یونیورسٹی میں تقریباً چالیس برس تک اردو اور فارسی کے استاد رہے، اردو و فارسی زبان کی تدریس اور فروغ کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں عوامی سطح پر ’’مولوی صاحب‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا، ان کی علمی و ادبی شخصیت نے متعدد اہلِ علم کو متاثر کیا، جن میں ہندوستان کے ممتاز سیاسی مفکر دیویشیا ورما بھی شامل ہیں، گلزار دہلوی کی شادی کویتا زتشی سے ہوئی، ان کے ہاں دو اولادیں ایک بیٹا انوپ زتشی اور ایک بیٹی ہوئیں، مارچ 2011ء میں نئی دہلی میں آپ کے شعری مجموعے کی رسمِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے شرکت کی، اس موقع پر محمد یونس میموریل کمیٹی کی جانب سے آپ کو اعزازی چیک، سپاس نامہ اور دوشالہ پیش کیا گیا۔
آپ کی اہم تصانیف میں کلیاتِ گلزار، گلزارِ غزل (2000ء)،کلیاتِ گلزار دہلوی (2010ء) شامل ہیں، آپ 2020ء میں عالمی وبا کووِڈ-19 کا شکار ہوئے اور 12 جون 2020ء کو 94 سال کی عمر میں نوئیڈا میں انتقال کر گئے، آپ کو اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات میر تقی میر ایوارڈ (2009ء) اور پدما شری (حکومتِ ہند) نوازا گیا، قابلِ ذکر ہے کہ آپ برصغیر کی پہلی اردو سائنسی مجلہ "سائنس کی دنیا" کے مدیر بھی رہے، آپ نے نہ صرف برصغیر بلکہ اردو کی نئی بستیوں میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مشاعروں میں بھی شرکت کی، مملکتِ بحرین کے مشاعرے میں شرکت آپ کے بین الاقوامی ادبی سفر کی ایک اہم کڑی ہے۔