Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ہادی قادری

1943 - 2006 | حیدرآباد, بھارت

ممتاز عالم، ادیب، نعت گو شاعر اور دینی و ادبی شخصیت تھے۔

ممتاز عالم، ادیب، نعت گو شاعر اور دینی و ادبی شخصیت تھے۔

ہادی قادری کا تعارف

تخلص : 'ہادی'

اصلی نام : محی الدین قادری

پیدائش : 13 Jan 1943 | حیدرآباد, تلنگانہ

وفات : 21 Jun 2006 | تلنگانہ, بھارت

ڈاکٹر سید محی الدین قادری اپنے عہد کی ان علمی، ادبی اور دینی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و ادب، نعت گوئی اور دینی خدمات کے میدان میں گراں قدر نقوش ثبت کیے، آپ کی ولادت بروزِ چہارشنبہ 13 جنوری 1943ء مطابق 6 محرم الحرام 1362ھ کو ایک ایسے خانوادے میں ہوئی جہاں دینی اقدار، تہذیبی روایات اور اخلاقی تربیت کو بنیادی اہمیت حاصل تھی، چنانچہ آپ کی ابتدائی پرورش و پرداخت خاندانی اصول و ضوابط اور اسلامی تعلیمات کے زیرِ سایہ ہوئی، جس نے آپ کی شخصیت کو علمی و روحانی اوصاف سے آراستہ کیا، آپ کی رسمی تعلیم کا آغاز مدرسہ تحتانیہ، سبزی منڈی سے ہوا جہاں جماعتِ دوم میں داخلہ لے کر آپ نے ابتدائی درسی مراحل طے کیے، فطری ذوقِ علم، شوقِ مطالعہ اور دینی و ادبی ماحول نے آپ کی علمی استعداد کو جلا بخشی اور آپ کو ایک صاحبِ فکر و قلم شخصیت کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کیا، آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 27 مئی 2003ء کو مکتبہ شاداب، ریڈہلز میں منعقدہ ایک پُر وقار تہنیتی تقریب کے موقع پر معروف ادیب و شاعر ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادقؔ (بانی و صدر ادارۂ ادبِ صادق) نے آپ کو ’’ہادیِ دکن‘‘ کے باوقار خطاب سے نوازا، یہ خطاب در حقیقت آپ کی دینی، ادبی اور اصلاحی خدمات کا ایک روشن اعتراف تھا، جس نے علمی حلقوں میں آپ کی قدر و منزلت کو مزید مستحکم کیا، آپ نے حصولِ علم، مشاہدۂ احوال اور تہذیبی روابط کے فروغ کے لیے متعدد ممالک کے اسفار بھی کیے، ایران اور عراق کے روحانی و علمی مراکز سے لے کر جاپان، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے ترقی یافتہ ممالک تک آپ کے سفر پھیلے ہوئے تھے، ان اسفار نے آپ کے فکری افق کو مزید وسعت بخشی اور مختلف تہذیبوں و ثقافتوں کے مشاہدے کا موقع فراہم کیا۔
ڈاکٹر محی الدین قادری کی ادبی خدمات ان کی تصانیف کی صورت میں محفوظ ہیں، ان کی معروف کتب میں ’’صوتِ ہادی‘‘ (1989ء)، ’’تحیاتِ ہادی‘‘ (1996ء) جو نعتیہ اور منقبتی کلام کا ایک وقیع مجموعہ ہے اور ’’طیباتِ ہادی‘‘ (2004ء) شامل ہیں، ان تصانیف میں ان کے دینی ذوق، عشقِ رسول، روحانی وابستگی اور شائستہ اسلوبِ نگارش کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ مرد علم و ادب بروزِ چہارشنبہ 21 جون 2006ء مطابق 24 جمادی الاول 1427ھ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، ان کی وفات سے علمی و ادبی دنیا ایک ایسی باوقار شخصیت سے محروم ہوگئی جس نے اپنی زندگی علم، ادب، دین اور محبتِ رسول کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی، تاہم ان کی تصانیف، خدمات اور یادگار علمی کارنامے آج بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اہلِ علم کے لیے سرچشمۂ فیض و رہنمائی ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے