Font by Mehr Nastaliq Web
Hafeez Banarasi's Photo'

حفیظ بنارسی

1933 - 2008 | وارانسی, بھارت

مسلم الحریری کے شاگرد، مہاراجہ کالج، آرہ کے صدرِ شعبۂ انگریزی اور کلاسیکی روایت کے ممتاز شاعر تھے۔

مسلم الحریری کے شاگرد، مہاراجہ کالج، آرہ کے صدرِ شعبۂ انگریزی اور کلاسیکی روایت کے ممتاز شاعر تھے۔

حفیظ بنارسی کا تعارف

تخلص : 'حفیظ'

اصلی نام : محمد عبد الحفیظ

پیدائش : 20 May 1933 | وارانسی, اتر پردیش

وفات : 16 Jun 2008 | اتر پردیش, بھارت

اردو شاعری کی معاصر روایت میں حفیظ بنارسی ان اصحابِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے خالص ادبی ذوق، وسیع مطالعے، کلاسیکی شعری روایت سے گہری وابستگی اور جدید شعور کے حسین امتزاج کے ذریعے ایک منفرد اور باوقار شناخت قائم کی، آپ 20 مئی 1933ء کو علم و ادب، تہذیب و روحانیت کے تاریخی مرکز بنارس میں پیدا ہوئے، اسی شہرِ کہن کی علمی و تہذیبی فضا میں آپ کی ابتدائی ذہنی اور فکری تشکیل ہوئی، طویل علمی و ادبی زندگی گزارنے کے بعد 16 جون 2008ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے اور اپنے پس ماندگان، شاگردوں اور اہلِ ادب کے لیے یادوں اور علمی نقوش کا ایک قیمتی سرمایہ چھوڑ گئے۔
حفیظ بنارسی کی ادبی شخصیت کی تعمیر میں متعدد جلیل القدر اساتذۂ علم و ادب کا حصہ رہا، زبان و ادب کی ابتدائی تربیت مولانا فرحت حسین اور مولانا اسداللہ عثمانی جیسے اہلِ فضل و کمال کی نگرانی میں ہوئی، جنہوں نے انہیں زبان کی لطافتوں، بیان کی نزاکتوں اور ادبی اظہار کے رموز سے آشنا کیا، انگریزی ادب کے نامور استاد ابوالفتح جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیض یافتہ تھے، نے ان کے ادبی ذوق کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا اور مغربی ادب کے مطالعے کی جانب ان کی توجہ مبذول کرائی، اسی طرح وامق جونپوری سے قربت و نیاز مندی نے بھی ان کے فکری اور شعری شعور کو وسعت بخشی۔
شاعری کے میدان میں انہیں بنارس کے ممتاز استادِ سخن مسلم الحریری کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، یہ تعلق اگرچہ مختصر عرصے پر محیط رہا لیکن اس کے اثرات دیرپا ثابت ہوئے، 1954ء میں مسلم الحریری نے یہ کہہ کر اصلاح کا سلسلہ موقوف فرما دیا کہ حفیظ کا کلام فنی عیوب سے پاک اور اصلاح کا محتاج نہیں رہا، کسی استادِ کامل کی جانب سے یہ سند درحقیقت ان کی فنی پختگی اور شعری استعداد کا روشن اعتراف تھی۔
حفیظ بنارسی کو اپنے عہد کے ممتاز ادبا و شعرا کی قربت حاصل رہی، نذیر بنارسی، ڈاکٹر علیم مسرور اور امرت لال عشرت جیسے اہلِ قلم کی محبت و شفقت نے ان کی ادبی زندگی کو مہمیز بخشی، مزید برآں فراق گورکھپوری، فضا ابنِ فیضی، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، شاذ تمکنت، ساحر لدھیانوی اور شکیل بدایونی کی شاعری اور فکری جہات سے وہ گہرا تاثر قبول کرتے رہے، ان بزرگوں کے کلام نے ان کے شعری شعور کو نئی وسعتوں سے آشنا کیا اور ان کے تخلیقی رویوں کو جلا بخشی۔
اگرچہ ان کی پیدائش بنارس میں ہوئی، تاہم ان کی عملی اور تدریسی زندگی کا بڑا حصہ صوبۂ بہار میں گزرا، جہاں انہوں نے تقریباً چالیس برس قیام کیا، وہ آڑہ کے معروف مہاراجہ کالج میں شعبۂ انگریزی سے وابستہ رہے اور اپنی علمی قابلیت، تدریسی مہارت اور ادبی ذوق کے باعث طلبہ اور اساتذہ دونوں حلقوں میں یکساں مقبول رہے، 1995ء میں وہ پروفیسر اور صدرِ شعبۂ انگریزی کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے، ان کا تدریسی سفر صرف درس و تدریس تک محدود نہ تھا بلکہ وہ نسلِ نو میں ادب، مطالعہ اور تنقیدی شعور پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہے، بہار میں قیام کے دوران انہیں پٹنہ کے ممتاز علمی و ادبی حلقوں سے وابستگی نصیب ہوئی، اختر اورینوی، جمیل مظہری، مجتبیٰ رضوی، سہیل عظیم آبادی، مظہر امام، عطا کاکوی، رضا نقوی واہی، قتیل داناپوری اور کلیم عاجز جیسی بزرگ شخصیات کی صحبتوں نے ان کے فکری افق کو مزید کشادہ کیا، ان اہلِ علم و فن کے ساتھ نشست و برخاست نے ان کی ادبی بصیرت میں گہرائی اور تنوع پیدا کیا۔
حفیظ بنارسی کا پہلا شعری مجموعہ ’’درخشاں‘‘ 1969ء میں منظرِ عام پر آیا، جس میں غزلیں، نظمیں، قطعات اور رباعیات شامل تھیں، اس مجموعے نے اہلِ ادب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور انہیں معاصر شعری منظرنامے میں ایک سنجیدہ اور باصلاحیت شاعر کے طور پر متعارف کرایا، ان کے کلام میں کلاسیکی روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ عصری حسیت، انسانی تجربات کی رنگا رنگی اور فکری گہرائی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
اردو کے علاوہ فارسی زبان سے بھی انہیں خاص شغف تھا، انہوں نے فارسی میں بھی شعر کہے لیکن افسوس کہ ان کا یہ سرمایہ محفوظ نہ رہ سکا، تاہم ان کی اردو شاعری میں فارسی زبان و ادب کے اثرات جابجا محسوس ہوتے ہیں جو ان کے وسیع مطالعے اور مشرقی ادبی روایت سے گہری وابستگی کا ثبوت ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے