Font by Mehr Nastaliq Web
Hafeez Farrukhabadi's Photo'

حفیظ فرخ آبادی

1902 - 1980 | فرخ آباد, بھارت

حضرت شاہ طالب حسین مجیب کے مرید، ڈاکٹر ذاکر حسین کے قریبی رفیق، تحریکِ آزادی کے مجاہد اور ممتاز شاعر و صحافی تھے۔

حضرت شاہ طالب حسین مجیب کے مرید، ڈاکٹر ذاکر حسین کے قریبی رفیق، تحریکِ آزادی کے مجاہد اور ممتاز شاعر و صحافی تھے۔

حفیظ فرخ آبادی کا تعارف

تخلص : 'حفیظ'

اصلی نام : حفیظ الرحمٰن خاں مجیبی

پیدائش :فرخ آباد, اتر پردیش

وفات : 01 Dec 1980 | اتر پردیش, بھارت

حفیظ فرخ آبادی بیسویں صدی کے ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جن کی شخصیت میں قومی بیداری، ادبی شعور، صحافتی بصیرت اور روحانی وابستگی کا بہترین امتزاج پایا جاتا ہے، وہ نہ صرف ایک قادرالکلام شاعر تھے بلکہ تحریکِ آزادی کے فعال کارکن، صحافی، دانش ور اور قومی فکر کے ترجمان بھی تھے، ان کی زندگی ہندوستان کی سیاسی، سماجی اور ادبی تاریخ کے ایک اہم دور کی آئینہ دار ہے، 1902ء میں فرخ آباد کے ایک معزز اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد منشی ارادت مند خاں اپنے علاقے کی باوقار شخصیات میں شمار ہوتے تھے، ابتدائی تعلیم و تربیت خاندانی ماحول میں ہوئی اور فرخ آباد میں اپنے چچا سعادت مند خاں کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں کچھ عرصہ ریاست گوالیار میں بھی زیرِ تعلیم رہے، جہاں ان کے علمی اور ادبی ذوق نے مزید نشو و نما پائی، تاہم ملک کی سیاسی فضا اور آزادیِ وطن کی تڑپ نے انہیں محض درس گاہوں تک محدود نہ رہنے دیا، 1920ء کے لگ بھگ جب ان کی عمر صرف سترہ برس تھی، انہوں نے رسمی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے تحریکِ خلافت میں شمولیت اختیار کر لی، یہ وہ زمانہ تھا جب پورا ملک سیاسی بیداری کی نئی لہر سے گزر رہا تھا اور نوجوان نسل جذبۂ حریت سے سرشار تھی، حفیظ فرخ آبادی بھی اسی کاروانِ آزادی کے ایک پُرجوش مسافر بن گئے، 1921ء میں آزادیِ وطن کے مطالبے اور سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ ہوئی۔
ان کی زندگی کا ایک اہم باب جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستگی ہے، وہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے نہایت قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے، ڈاکٹر ذاکر حسین کی ترغیب اور حوصلہ افزائی پر انہوں نے دوبارہ تعلیمی سلسلہ اختیار کیا اور علمی و فکری ارتقا کے نئے مراحل طے کیے، اس تعلق نے ان کی شخصیت میں اعتدال، وسعتِ نظر اور قومی شعور کو مزید مستحکم کیا۔
صحافت کے میدان میں بھی حفیظؔ فرخ آبادی نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ 1925ء میں انہوں نے ہفت روزہ ’’فرخ‘‘ کی ادارت سنبھالی اور صحافت کو قومی و سماجی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنایا، بعد ازاں 1927ء میں ہفتہ وار ’’مجیب‘‘ جاری کیا، جس کے ذریعے انہوں نے ادبی، سیاسی اور سماجی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، ان کے صحافتی مضامین میں فکری سنجیدگی، قومی درد اور اصلاحی جذبہ نمایاں نظر آتا ہے، شاعری کا شوق انہیں زمانۂ طالب علمی ہی میں خصوصاً قیامِ گوالیار کے دوران پیدا ہو چکا تھا، ابتدا میں ان کا کلام قومی اور وطنی جذبات کا ترجمان تھا، تحریکِ آزادی کے ولولوں اور ملت کے مسائل نے ان کی شاعری کو ایک خاص رنگ عطا کیا، بعد ازاں انہوں نے غزل کی وادی میں قدم رکھا اور اپنی فنی مہارت اور قادرالکلامی کے باعث اہلِ ادب سے داد و تحسین حاصل کی۔
روحانی اعتبار سے انہیں مشہور بزرگ حضرت شاہ طالب حسین مجیب سے عقیدت و ارادت حاصل تھی اور وہ ان کے مریدین میں شمار ہوتے تھے، یہی روحانی وابستگی ان کی شاعری میں تصوف، اخلاقی تطہیر اور باطنی واردات کے عناصر کو جلا بخشتی ہے، ان کا شعری سرمایہ قومی، سیاسی، صوفیانہ، نعتیہ اور ظریفانہ کلام پر مشتمل ہے، جس سے ان کی فکر کی ہمہ گیری اور فنی تنوع کا اندازہ ہوتا ہے، ان کی شاعری میں ایک طرف وطن سے محبت اور آزادی کا ولولہ ملتا ہے تو دوسری طرف عشقِ رسول، تصوف کی لطافت اور مزاج کی شگفتگی بھی جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔
حفیظ فرخ آبادی نے تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط زندگی پائی اور علم و ادب، صحافت اور قومی خدمت کے میدان میں گراں قدر نقوش چھوڑے، 1980ء میں تقریباً اناسی برس کی عمر میں یہ مردِ مجاہد و قلم اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر عالمِ جاودانی کی طرف روانہ ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے