حفیظ اللہ کا تعارف
مولوی حفیظ اللہ کے والدِ محترم کا نام مولوی کرامت اللہ تھا، آپ نسباً عباسی تھے اور آپ کا آبائی وطن بدایوں تھا، ابتدائی تعلیم کے بعد علم کے حصول کی غرض سے رامپور تشریف لائے اور وہیں مستقل قیام اختیار کر لیا، بعد ازاں بلاس پور تحصیل کے موضع سنتورا (یا سینتولی) کو اپنا مسکن بنایا، آپ نے اپنے عہد کے جید علما سے کسبِ فیض کیا، جن میں مولانا رستم علی، مولوی محمد سلیم اللہ اور غلام جیلانی رفعت کے نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، مولانا رستم علی سے بیعت کی اور انہی سے خلافت بھی حاصل کی، اس طرح آپ سلسلۂ ارشاد کے صاحبِ مرتبہ بزرگ بنے اور رشد و ہدایت کے فرائض انجام دیتے رہے، مولوی حفیظ اللہ علمی و ادبی میدان میں بھی نمایاں حیثیت رکھتے تھے، آپ کی متعدد تصانیف کا ذکر ملتا ہے، جن میں رسالۂ بیت المعرفت، شرحِ ظہوری، آداب الصبیان اور انشائے فیض رساں شامل ہیں، اس کے علاوہ معراج کے موضوع پر ایک اردو مثنوی اور فارسی میں کاغذ نامہ بھی آپ کی اہم تالیفات میں شمار ہوتی ہیں، آپ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے، فارسی میں حفظ، جبکہ اردو شاعری میں بندہ تخلص اختیار کرتے تھے، آپ کی علمی بصیرت، روحانی وجاہت اور ادبی ذوق نے انہیں اپنے عہد میں ایک ممتاز مقام عطا کیا، مولوی حفیظ اللہ کا انتقال 27 جمادی الآخر 1277 ہجری کو جمعہ کے روز پچاس برس کی عمر میں ہوا، آپ کا مزار موضع سنتورا میں واقع ہے۔