حافظ حبیب علی شاہ کا تعارف
برصغیر کی صوفیانہ تاریخ میں حضرت حبیب علی شاہ کا نام نہایت احترام، عقیدت اور روحانی عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے، آپ ان بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمِ شریعت اور اسرارِ طریقت کو یکجا کرکے رشد و ہدایت کا ایسا چراغ روشن کیا جس کی ضیا آج بھی ہزاروں دلوں کو منور کر رہی ہے، آپ سلسلۂ چشتیہ نظامیہ فخریہ کے ممتاز شیخِ طریقت، صاحبِ ارشاد اور مرجعِ خلائق تھے۔
آپ کی ولادت ایک ایسی بشارت کا مظہر تھی جس کا اظہار آپ کے مرشدِ کامل حافظ محمد علی شاہ خیرآبادی نے قبل از وقت فرما دیا تھا، روایت ہے کہ انہوں نے نواب احمد یار خاں سے فرمایا تھا کہ ’’میرا بیٹا تمہارے گھر پیدا ہوگا‘‘ بظاہر اس کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی لیکن مشیتِ ایزدی نے وہی ظاہر کیا جو مردانِ حق کی زبان سے صادر ہوا تھا، چنانچہ چند برس بعد نواب احمد یار خاں کے گھر ایک فرزند کی ولادت ہوئی جس کا نام ’’حبیب یار خاں‘‘ رکھا گیا، ولادت کے وقت ایک مجذوب کا بار بار وجد کی کیفیت میں ’’شیخ پیدا شد‘‘ کہنا اس نومولود کے مستقبلِ درخشاں کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔
بچپن ہی سے آپ کے اندر غیر معمولی روحانی آثار نمایاں تھے، رسمِ بسم اللہ کے موقع پر حافظ پیر دستگیر نے آپ کا امتحان لیا اور سونے کے سکوں اور مٹھائیوں میں سے انتخاب کا کہا، آپ نے دونوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ ’’میں دونوں لوں گا‘‘ اس پر مرشدِ کامل نے تبسم فرمایا اور پیشین گوئی کی کہ یہ بچہ دنیاوی دولت سے زیادہ روحانی دولت کا وارث بنے گا اور خود دوسروں کے لیے سرمایۂ روحانیت ثابت ہوگا۔
تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی سے آپ نے ظاہری و باطنی علوم کے حصول میں غیر معمولی انہماک دکھایا، کم سنی میں قرآنِ مجید حفظ کیا، اس کے معانی و اسرار سے آگاہی حاصل کی اور عبادت و مجاہدہ کو اپنا شعار بنایا، چھ برس کی عمر میں تنہائی میں مراقبہ اور ذکر و فکر کی مشقیں شروع کر دیں، جبکہ نو برس کی عمر میں دائمی طہارت اور وضو کی پابندی آپ کی عادت بن چکی تھی، یہی روحانی ریاضتیں آگے چل کر آپ کے مقامِ ولایت کے ظہور کا پیش خیمہ بنیں۔
سولہ برس کی عمر میں آپ نے حافظ محمد علی شاہ خیرآبادی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی، مرشد سے آپ کی محبت اور والہانہ عقیدت کا یہ عالم تھا کہ جنت کی نعمتوں سے زیادہ آپ کو اپنے پیر کی خانقاہ کی حاضری عزیز تھی، آپ کے اشعار میں یہ عشقِ مرشد جابجا جلوہ گر ہے اور یہی جذبۂ محبت آپ کی روحانی ترقی کا سب سے بڑا وسیلہ بنا۔
مدتوں مرشدِ کامل کی صحبت میں رہ کر آپ نے سلوک و معرفت کے منازل طے کیے اور بالآخر خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے، آپ کو سلسلۂ چشتیہ اور سلسلۂ قادریہ میں خلافت عطا ہوئی اور یوں آپ خود ایک عظیم روحانی مرکز کی حیثیت اختیار کر گئے، آپ کی خانقاہ میں علم، ذکر، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کی ایسی جامع تعلیم دی جاتی تھی جس نے بے شمار سالکینِ راہِ حق کو منزلِ مقصود تک پہنچایا۔
حبیب علی شاہ نہ صرف ایک صاحبِ حال صوفی تھے بلکہ ایک بلند پایہ مصنف اور صاحبِ دیوان شاعر بھی تھے، اردو، فارسی، ہندی اور کونکنی زبانوں میں آپ کا کلام موجود ہے، جسے آج بھی قوال اور اہلِ ذوق عقیدت کے ساتھ گاتے ہیں، آپ کے اشعار میں عشقِ الٰہی، محبتِ رسول، عقیدتِ مرشد اور اؤلیائے کرام سے والہانہ وابستگی کا اظہار نہایت دل آویز پیرائے میں ملتا ہے۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں، آپ کی تیس سے زائد تصانیف میں عقائدِ اہلِ سنت، آدابِ سلوک، تزکیۂ نفس، مجاہدۂ شیطان و نفس، اخلاقی تربیت، اذکار و اوراد اور تصوف کے دقیق مسائل کو نہایت سہل اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، ’’حبیب الانعام‘‘، ’’حبیب الطالبین‘‘، ’’حبیب المریدین‘‘، ’’حبیب الاذکار‘‘ اور ’’دیوانِ حبیب‘‘ جیسی کتب آج بھی اہلِ تصوف کے نزدیک اہم مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آپ نے خانقاہی تعلیم کے لیے ایک منظم نصاب اور تربیتی نظام بھی مرتب کیا، جس میں عقائد، اخلاق، مجاہدہ، ذکر و مراقبہ اور روحانی تربیت کے مختلف مدارج کو مربوط انداز میں پیش کیا گیا، یہ نظام آج بھی آپ کے سلسلے سے وابستہ خانقاہوں میں رائج ہے اور سالکین کی تربیت کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
یکم فروری 1906ء کو بمبئی میں آپ کا وصال ہوا، خبرِ وفات جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی اور آپ کے جسدِ مبارک کو حیدرآباد منتقل کیا گیا، راستے کے ہر ریلوے اسٹیشن پر عقیدت مندوں کے جمِ غفیر نے حاضری دی، نمازِ جنازہ ادا کی اور اپنے محبوب شیخ کو خراجِ عقیدت پیش کیا، حیدرآباد میں ہزاروں مسلمانوں اور غیر مسلموں نے آپ کے جنازے میں شرکت کی، جس سے آپ کی مقبولیت اور انسان دوستی کا اندازہ ہوتا ہے۔
آپ کا مزارِ اقدس آج بھی حیدرآباد دکن میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر نسل کے لوگ حاضری دے کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں، آپ کی خانقاہ محبت، اخوت، رواداری اور خدمتِ خلق کی زندہ علامت ہے اور آپ کی تعلیمات آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔