حافظ مظہرالدین مظہرؔ کا تعارف
حافظ مظہرالدین مظہر جو ادبی دنیا میں ’’حسان العصر‘‘ کے نام سے بھی معروف ہیں، بیسویں صدی کے ان ممتاز علما، اہلِ قلم اور نعت گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و ادب، تصوف اور عشقِ رسول کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، آپ کی شخصیت علمی وقار، روحانی عظمت اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج تھی، ایک طرف آپ دینی علوم کے ماہر، صاحبِ نظر عالم اور صاحبِ بصیرت کالم نگار تھے تو دوسری جانب اردو شاعری، بالخصوص نعتیہ شاعری میں آپ کا مقام نہایت بلند اور منفرد تھا۔
آپ 1914ء میں ایک ایسے خانوادۂ علم و عرفان میں پیدا ہوئے جس کی بنیادیں روحانیت، شریعت اور خدمتِ دین پر استوار تھیں، آپ کے والد خواجہ نواب الدین چشتی برصغیر کے معروف عالمِ دین، جلیل القدر صوفی اور سلسلۂ قادریہ کے ممتاز شیخِ طریقت تھے، ان کی خانقاہ رشد و ہدایت کا ایک معتبر مرکز تھی، جہاں طالبانِ حق روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے تھے، اسی پاکیزہ اور علمی ماحول میں حافظ مظہرالدین کی تربیت ہوئی، جس نے ان کی شخصیت کو علمی گہرائی، روحانی استحکام اور اخلاقی رفعت عطا کی، روحانی اعتبار سے آپ کو خواجہ سراج الحق چشتی کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل تھا لیکن جس فیضانِ تربیت، تعلیم اور خلافت نے آپ کی شخصیت کو امتیاز بخشا، وہ در اصل آپ کے والدِ بزرگوار خواجہ نواب الدین چشتی ہی کا عطیہ تھا، آپ نے والدِ گرامی کی صحبت میں رہ کر نہ صرف علومِ ظاہری کی تحصیل کی بلکہ اسرارِ طریقت، آدابِ سلوک اور روحانی تربیت کے مدارج بھی طے کیے، شاعری کے میدان میں ان کی اصل شناخت ایک نعت گو شاعر کی حیثیت سے قائم ہوئی، ان کے کلام میں عشقِ رسول کی وارفتگی، عقیدت و احترام کی لطافت اور روحانی کیف و سرور کی ایسی دل آویز فضا ملتی ہے جو قاری کے قلب و وجدان کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی، ان کی نعتیہ شاعری محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ علمی شعور، صوفیانہ واردات اور فنی پختگی کا مرقع ہے۔
ان کے متعدد نعتیہ مجموعے شائع ہو کر اہلِ ادب اور محبانِ رسول سے خراجِ تحسین حاصل کر چکے ہیں، ان کے معروف شعری مجموعوں میں ’’تجلیات‘‘، ’’جلوہ گاہ‘‘، ’’بالِ جبرئیل‘‘ اور ’’میزاب‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان تصانیف میں عشقِ مصطفیٰ کے گوناگوں جلوے، روحانی مشاہدات اور عقیدت و محبت کے دل نشیں احساسات نہایت دل آویز اسلوب میں جلوہ گر ہوئے ہیں، ان کے کلام میں کلاسیکی نعتیہ روایت کی پاسداری بھی ملتی ہے اور عصری شعور کی تازگی بھی، 1981ء میں اس مردِ درویش نے داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔