Font by Mehr Nastaliq Web
Haji Abdullah Akbari's Photo'

حاجی عبداللہ اکبری

- 1943 | الہ آباد, بھارت

حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور الہ آباد میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے متحرک صوفی بزرگ۔

حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور الہ آباد میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے متحرک صوفی بزرگ۔

حاجی عبداللہ اکبری کا تعارف

تخلص : 'احقر'

اصلی نام : عبداللہ

پیدائش :سہارنپور, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : شاہ اکبر داناپوری (مرشد)

سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ سجادیہ کے ممتاز بزرگوں میں حاجی عبداللہ ابوالعلائی اکبری کا نام نہایت عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، آپ اپنے عہد کے صاحبِ حال صوفی، مرشدِ کامل اور مردِ مجاہد تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن اور رشد و ہدایتِ خلق کے لیے وقف کر دی، آپ کا تعلق سہارن پور کے قصبہ انبیٹھہ کے ایک نو مسلم خاندان سے تھا، ابتدائی عمر میں حصولِ معاش کے لیے ہندوستانی فوج سے وابستہ ہوئے لیکن فطرت میں ودیعت روحانی جستجو انہیں سکون سے نہ بیٹھنے دیتی تھی، داناپور کینٹ میں قیام کے دوران ان کی ملاقات سلسلۂ ابوالعلائیہ کے عظیم صوفی حضرت شاہ اکبر داناپوری سے ہوئی، پہلی ہی نظر میں دل اس درویشِ کامل کی محبت سے معمور ہوگیا اور رفتہ رفتہ یہ تعلق عقیدت و ارادت میں تبدیل ہوگیا۔
حضرت شاہ اکبر داناپوری کے دستِ حق پرست پر بیعت کے بعد انہوں نے فوجی ملازمت ترک کر دی اور خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور میں مستقل سکونت اختیار کر لی، اپنے غیر معمولی اخلاص، خدمت گزاری، مجاہدات اور روحانی استعداد کے باعث جلد ہی مرشدِ کامل کی نگاہِ انتخاب کے مستحق قرار پائے اور سلسلۂ ابوالعلائیہ میں خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے، بعد ازاں حضرت شاہ اکبر داناپوری نے انہیں الہ آباد میں اپنی نیابت پر مامور فرمایا، اگرچہ وہ اپنے مرشد کی صحبت سے جدا ہونا نہیں چاہتے تھے لیکن حکمِ مرشد کو عین سعادت سمجھتے ہوئے الہ آباد تشریف لے گئے اور وہاں خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کو رشد و ہدایت کا مرکز بنا دیا، ان کی سادہ زندگی، قلتِ طعام، قلتِ منام اور قلتِ کلام، زہد و تقویٰ اور مسلسل ذکر و فکر نے عوام و خواص کو بے حد متاثر کیا، تھوڑے ہی عرصے میں الہ آباد روحانی تربیت اور اصلاحِ باطن کا ایک اہم مرکز بن گیا، حاجی صاحب کی طبیعت نہایت منکسر المزاج، خاموش، پاکیزہ اور خدمت شعار تھی، عرسِ اکبری کے موقع پر بڑھاپے اور ضعف کے باوجود اپنے کاندھوں پر آٹے کی بوریاں اٹھا کر لاتے اور زائرین کی خدمت کو سعادت سمجھتے تھے، آپ نام و نمود، شہرت اور دنیاوی جاہ و حشمت سے کوسوں دور رہے اور تمام عمر فقر و استغنا کی زندگی بسر کی، آپ شعر و ادب سے بھی شغف رکھتے تھے اور احقر تخلص فرماتے تھے، اصلاحِ سخن اپنے مرشد حضرت شاہ اکبر داناپوری سے حاصل کی، اگرچہ آپ کی کوئی مستقل تصنیف دستیاب نہیں، تاہم آپ کے قلمی بیاض میں تصوف، سلوک، اذکار و وظائف اور اکابرینِ طریقت کے متعدد رسائل محفوظ تھے جو آپ کے علمی ذوق اور مطالعے کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں، حاجی عبداللہ ابوالعلائی نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت، اصلاحِ خلق اور روحانی تربیت میں بسر کی، بالآخر 5 جمادی الثانی 1343ھ مطابق یکم جنوری 1925ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

موضوعات

Recitation

بولیے