حکیم نذیر احمد کا تعارف
حکیم سید نذیر احمد فرزندِ حضرت آل احمد مودودی چشتی اپنے عہد کے جلیل القدر صوفی بزرگ، صاحبِ کرامات ولیِ کامل اور اربابِ سلوک و معرفت میں ممتاز مقام کے حامل تھے، آپ کے والد بھی ولایت و عرفان کے بلند مرتبہ بزرگ اور سالکانِ راہِ حق کے مقتدا تھے جن کی روحانی فیوض و برکات سے ایک وسیع حلقہ مستفید ہوتا تھا، نذیر احمد شاہ نے علومِ نقلیہ کی تکمیل کے بعد اپنے آبائی مسندِ خلافت کو زینت بخشی اور تقریباً نصف صدی تک رشد و ہدایت، اصلاحِ باطن اور روحانی تربیت کے فرائض نہایت اخلاص و استقامت کے ساتھ انجام دیے، اس عرصے میں آپ نے روحانی فیض رسانی کے ساتھ ساتھ جسمانی امراض کے علاج کے ذریعے بھی مریدین، معتقدین اور عام لوگوں کو بے پناہ فائدہ پہنچایا اور عمر کے آخری لمحے تک سلسلۂ ارشاد و ہدایت کو پوری شان کے ساتھ جاری رکھا، اگرچہ شاعری آپ کی شخصیت کا بنیادی حوالہ نہ تھی، تاہم آپ کی بلند پایہ علمی، روحانی اور ادبی صلاحیتوں کا عکس آپ کے کلام میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتا ہے، آپ کا شعری سرمایہ حمد، نعت، منقبت اور قصائد پر مشتمل ہے، آپ کا وصال ماہِ ربیع الاول 1309ھ میں تقریباً سڑسٹھ برس کی عمر میں ہوا۔