Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

حمید بدایونی

1939 | بدایوں, بھارت

زہد، عبادت اور فطری شاعرانہ سوز کے نمائندہ صاحبِ دل شاعر۔

زہد، عبادت اور فطری شاعرانہ سوز کے نمائندہ صاحبِ دل شاعر۔

حمید بدایونی کا تعارف

تخلص : 'حمید'

اصلی نام : حمیدالدین

پیدائش : 28 Jul 1939 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

حمید جن کا اصل نام حافظ حمیدالدین تھا، سعیدالدین کے فرزند اور بدایوں کے مولوی ٹولہ کے معزز دانشمند خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ابتدائے عمر ہی میں حالات کی سختی کا سامنا کرنا پڑا، بارہ برس کی کم سنی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے خالو کی سرپرستی میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے، یہ سرپرستی نہ صرف ان کی علمی نشوونما کا سبب بنی بلکہ ان کے اخلاق و کردار کی تشکیل میں بھی بنیادی حیثیت رکھتی تھی، تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ سب انسپکٹر پولیس کی حیثیت سے سرکاری خدمات انجام دیں مگر ان کی طبیعت کا میلان دنیاوی جاہ و منصب کی نسبت زہد و عبادت کی طرف زیادہ تھا، وہ نہایت عابد و زاہد اور دینی رجحان کے حامل شخص تھے، روحانی وابستگی کے اعتبار سے انہیں حضرت شاہ ابوالحسن احمد نوری مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل تھا، جس نے ان کی باطنی زندگی کو ایک خاص نورانیت اور استقامت عطا کی، ادبی میدان میں وہ ایک فطری شاعر تھے، ان کے کلام میں سادگی، تاثیر اور سوز و گداز کی وہ کیفیت پائی جاتی تھی جو ایک سچے احساس اور داخلی واردات کی آئینہ دار ہوتی ہے، انہیں محمد رفیع احمد عالی بدایونی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا، جس کے باعث ان کے شعری ذوق کو مزید جلا ملی اور ان کے فن میں پختگی پیدا ہوئی، 72 برس کی عمر میں 10 جمادی الثانی 1350ھ مطابق 20 جولائی 1949ء کو بدایوں ہی میں ان کا وصال ہوا، وہ ایک سادہ، متقی اور باوقار زندگی گزار کر اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، ان کی شخصیت زہد و تقویٰ، علمی سنجیدگی اور فطری شعری صلاحیتوں کا حسین امتزاج تھی جو انہیں اپنے عہد کے ایک باوقار اور یادگار فرد کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے