حمید ویشالوی کا تعارف
تخلص : 'حمید'
اصلی نام : عبدالحمید
وفات : 01 Apr 2005 | بہار, بھارت
رشتہ داروں : ظفر انصاری ظفر (مرشد)
بہار کی سر زمین ہمیشہ علم و ادب، تصوف اور شعر و سخن کے ایسے گوہرہائے نایاب پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے اپنی سادگیِ حیات، اخلاصِ عمل اور فکری بالیدگی کے ذریعے اہلِ ذوق کے دلوں میں دوام حاصل کیا، انہی باکمال شخصیات میں ایک معتبر نام حمید ویشالوی کا ہے جنہوں نے محدود وسائل، نامساعد حالات اور رسمی تعلیم کی کمی کے باوجود اپنے ذوقِ سلیم، محنتِ مسلسل اور عشقِ رسول کی دولت سے اردو شاعری میں ایک منفرد مقام پیدا کیا۔
حمید ویشالوی کا اصل نام عبدالحمید تھا، آپ 1354ھ مطابق 1934ء میں ویشالی کے ایک مردم خیز گاؤں چھپرہ خرد میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام نور محمد اور والدہ کا نام لطیفن خاتون تھا، آپ ایک غریب مگر دیندار اور شریف گھرانے کے چشم و چراغ تھے، معاشی تنگ دستی کے باعث اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر نہ آسکے، تاہم ابتدائی دینی و لسانی تعلیم مکتب میں حاصل کی، آپ نے شیخ الحدیث حضرت شمس الحق کے عمِ محترم، مولوی سید شاہ محمد سے اردو اور قرآنِ مجید کی ابتدائی تعلیم حاصل کی، معاشی ضروریات نے کم عمری ہی میں آپ کو وطن سے دور کر دیا، رزقِ حلال کی تلاش میں آپ کلکتہ پہنچے اور ایک ٹائر کی دکان میں قلیل تنخواہ پر ملازمت اختیار کی، بظاہر یہ زندگی محنت و مشقت کی زندگی تھی لیکن قدرت نے اسی شہر کو آپ کی ادبی تقدیر کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنایا، جس محلے میں آپ قیام پذیر تھے وہیں اپنے زمانے کے معروف استادِ سخن علی احمد خاں یکتا کلکتوی بھی مقیم تھے، ان کی علمی و ادبی شہرت سے متاثر ہو کر حمید نے ان سے اصلاحِ سخن کی درخواست کی جو قبول ہوئی اور یوں آپ کی شعری زندگی کا آغاز ہوا، یکتا کلکتوی اپنے عہد کے جید اساتذۂ فن میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے وحشت کلکتوی، برتر غازی پوری، مولانا حنیف علی رعب، آرزو لکھنوی، ناطق لکھنوی اور اصغر کلکتوی جیسے ممتاز اہلِ فن سے کسبِ فیض کیا تھا، اگرچہ حقیقی معنوں میں وہ اصغر کلکتوی کے شاگرد تھے، اسی مضبوط فنی روایت کا اثر حمید ویشالوی کی شاعری میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے، جہاں زبان کی صفائی، عروضی پختگی اور روایتی شعری اقدار کی پاسداری ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
حمید ویشالوی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا دینی اور روحانی مزاج تھا، وہ بچپن ہی سے مذہبی رجحان رکھتے تھے، ابھی شباب کی دہلیز پر قدم بھی نہ رکھا تھا کہ سلسلۂ قادریہ کے بزرگ شاہ عبدالحفیظ قادری کے دستِ حق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی جو حضرت شاہ تیغ علی کے مرید و خلیفہ تھے، اس روحانی وابستگی نے ان کی شخصیت میں عاجزی، تقویٰ، عشقِ اؤلیا اور محبتِ رسول کے جذبات کو مزید جلا بخشی، یہی عناصر بعد میں ان کی شاعری کا بنیادی جوہر بن گئے۔
شعری اعتبار سے حمید ویشالوی نے غزل، نعت، منقبت، قطعہ ،سہرا، قصیدہ ماہ صیام اور دیگر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، ان کا کلام سادگی، سوزِ دروں، دینی جذبے اور فکری خلوص کا آئینہ دار ہے، ان کی شاعری میں تصنع اور لفظی نمائش کے بجائے جذبے کی صداقت اور اظہار کی سلاست کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، وہ ادب کو محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاحِ فکر و عمل اور تزکیۂ اخلاق کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
آپ کی تصانیف میں ’’تجسس‘‘ (مجموعۂ غزلیات)، ’’توشۂ آخرت‘‘ (نعتیہ کلام)، ’’آفتابِ زندگی‘‘ (مجموعۂ غزلیات و قطعات) اور ’’مناقبِ اؤلیا‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان تصانیف میں ان کے فکری تنوع، دینی وابستگی اور شعری مہارت کے مختلف رنگ جلوہ گر ہیں، بالخصوص نعتیہ اور منقبتی شاعری میں ان کے عشق و عقیدت کا والہانہ اظہار قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
حمید ویشالوی نے تمام عمر محنت، قناعت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ بسر کی، وہ شہرت و نمائش سے دور رہتے ہوئے خاموشی کے ساتھ علم و ادب اور دین کی خدمت کرتے رہے، یکم اپریل 2005ء بروز جمعہ یہ مردِ درویش اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملا۔