Font by Mehr Nastaliq Web
Hamid Azimabadi's Photo'

حامد عظیم آبادی

1884 - 1967 | پٹنہ, بھارت

درگاہ حضرت دیوان شاہ ارزاں، سلطان گنج، پٹنہ کے معروف سجادہ نشیں اور فن شاعری میں داغ دہلوی اور احسن مارہروی کے شاگرد

درگاہ حضرت دیوان شاہ ارزاں، سلطان گنج، پٹنہ کے معروف سجادہ نشیں اور فن شاعری میں داغ دہلوی اور احسن مارہروی کے شاگرد

حامد عظیم آبادی کا تعارف

تخلص : 'حامد'

اصلی نام : حامد حسین

پیدائش :پٹنہ, بہار

وفات : بہار, بھارت

رشتہ داروں : احسن مارہروی (مرشد), شاہ عاشق حسین (بیٹا)

حامد عظیم آبادی کی شخصیت علم، تصوف اور شعر و ادب کے انوار کا ایک دل آویز مرقع تھی، آپ کا اصل نام حامد حسین تھا جبکہ ادبی دنیا میں حامد عظیم آبادی کے نام سے شہرتِ دوام حاصل ہوئی، آپ 1884ء میں پٹنہ کے ایک معزز اور روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے اور عمر بھر علم و عرفان، تصوف و ادب اور تہذیب و ثقافت کی خدمت میں مصروف رہے، آپ کو پٹنہ کی معروف اور تاریخی خانقاہ حضرت شاہ ارزاں کی سجادگی نصیب ہوئی، اس منصبِ روحانی نے آپ کی شخصیت کو عوامی اور روحانی حلقوں میں غیر معمولی وقار عطا کیا، آپ نہ صرف ایک صاحبِ سجادہ بزرگ تھے بلکہ علم و ادب کے ایسے سرپرست بھی تھے جن کی کوششوں سے پٹنہ میں شعر و سخن کی محفلیں ہمیشہ گرم رہیں، ان کی خانقاہ اہلِ دل، اہلِ علم اور اربابِ سخن کا مرکز بنی رہی، جہاں روحانی فیوض کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق کی آبیاری بھی ہوتی تھی، ادب نوازی اور شعری ذوق کے فروغ کے لیے آپ نے ’’جلوۂ سخن‘‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی جو اپنے زمانے میں اہلِ شعر و ادب کی ایک معتبر نشست سمجھی جاتی تھی، اس انجمن کے زیرِ اہتمام مشاعروں، ادبی مذاکروں اور شعری نشستوں کا انعقاد ہوتا تھا، جنہوں نے پٹنہ کی ادبی فضا کو تازگی اور توانائی بخشی، شاعری میں حامد عظیم آبادی کو براہِ راست استادِ سخن داغ دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا، داغ دہلوی کی اصلاح نے ان کے کلام کو فنی پختگی، زبان کی لطافت اور بیان کی دلکشی عطا کی، داغ دہلوی کے وصال کے بعد آپ نے ان کے ممتاز شاگرد احسن مارہروی سے بھی اصلاحِ سخن حاصل کی اور یوں دبستانِ داغ کی شعری روایت کے ایک معتبر امین بن گئے۔
حامد عظیم آبادی کی شاعری میں محض لفظی حسن یا فنی چابک دستی ہی نہیں بلکہ معنویت، عرفانیت اور روحانی گہرائی بھی نمایاں نظر آتی ہے، ان کے اشعار میں تصوف کی لطافت، عشقِ الٰہی کی حرارت، انسانی اقدار کی پاسداری اور باطنی تجربات کی جھلک جابجا دکھائی دیتی ہے، وہ ان شعرا میں سے تھے جن کے نزدیک شاعری محض تفننِ طبع نہیں بلکہ دل و روح کی تطہیر اور معرفتِ حق کا ایک وسیلہ تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں فکر و وجدان اور جذبہ و عرفان کا حسین امتزاج ملتا ہے، آپ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی پائی، تقریباً آٹھ دہائیوں تک پٹنہ کی علمی، روحانی اور ادبی فضا کو اپنی شخصیت کے نور سے منور رکھا، بالآخر 1967ء میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

موضوعات

Recitation

بولیے