حامد بخش کا تعارف
حامد بخش بن محمد بخش، بدایوں کے محلہ سوتھا شیوخ صدیقی کی شاخِ بخوش کے معزز عمائدین میں شمار ہوتے تھے، خاندانی نسبت سے وہ علی بخش خاں شرر بدایونی کے برادرزادے اور داماد تھے، شاعری میں انہیں اپنے عمِ محترم شرر بدایونی سے تلمذ حاصل تھا، جس کے باعث ان کے کلام میں فنی پختگی اور سلاست نمایاں تھی، حامد بخش نے اپنی تخلیقی توانائی کو مکمل طور پر نعتیہ شاعری کے لیے وقف کر رکھا تھا اور اسی میدان میں انہوں نے غیر معمولی شہرت حاصل کی، ان کے نعتیہ کلام کے چار دیوان اور متعدد گلدستے شائع ہو چکے ہیں، گلدستہ گلزارِ نعت 1879ء میں مرتب ہوا اور 1880ء میں مطبع افضل المطابع (بدایوں) سے طبع ہوا، اسی طرح گلشن شادابِ منقبت (1886ء)، گلزارِ نظمِ حامد (1886ء) اور مدحِ رسولِ اکرم غیر منقوط (1885ء) بھی اشاعت پذیر ہوئے، ان کی ایک اور اہم تصنیف محامدِ خمسہ مطبع نسیمِ سحر، بدایوں سے شائع ہوئی، جبکہ کلامِ حامد کی اشاعت بعد کے زمانے میں 1988ء اور 1989ء میں نیو لیتھو آرٹ پریس، دہلی سے عمل میں آئی، حامد بخش نے 26 مارچ 1926ء کو وفات پائی اور حضرت سرخ شہید کی حریم، محلہ سوتھا میں مدفون ہوئے۔