حمزہ عینی مارہروی کا تعارف
تخلص : 'عینی'
اصلی نام : حمزہ عینی
وفات : 10 Dec 1783 | اتر پردیش, بھارت
رشتہ داروں : برکت اللہ پیمی (پوتا)
حمزہ عینی مارہروی ایک بلند پایہ صوفی، عالم، طبیب، شاعر اور شیخِ طریقت تھے جنہوں نے اپنے عہد میں علم و روحانیت کے امتزاج سے ایک ممتاز مقام حاصل کیا، آپ کی ولادت ۱۴ ربیع الثانی ۱۱۳۱ھ مطابق مارہرہ میں ہوئی، آپ کا اسمِ گرامی محمد حمزہ تھا اور آپ کے والد ماجد حضرت آلِ محمد اپنے وقت کے جلیل القدر اہلِ علم و طریقت میں شمار ہوتے تھے، ابتدائی و ظاہری و باطنی علوم کی تکمیل آپ نے اپنے والد ہی کے زیرِ سایہ کی، جہاں سے آپ کو مقاماتِ سلوک، منازلِ معرفت اور بیعت و خلافت کی دولت بھی حاصل ہوئی، اس کے علاوہ آپ نےمولانا محمد باقر سے علومِ ظاہری کی تحصیل کی اور حکمت و طب کا فن حکیم عطاؤاللہ سے سیکھا، مزید برآں شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات حاصل کر کے اپنی علمی استعداد کو جلا بخشی۔
آپ سلسلۂ قادریہ کے پینتیسویں شیخِ طریقت تھے اور محض گیارہ برس کی عمر میں علوم و فنون کی تکمیل کر چکے تھے، آپ کو شیخ محمد عربی کی تصانیف سے خاص شغف تھا اور ان کے مطالعے سے آپ کے ذوقِ تحقیق و معرفت کو جلا ملتی رہی، 34 برس کی عمر میں آپ کو تاجِ خلافت سے سرفراز کیا گیا، جس کے بعد آپ رشد و ہدایت اور ارشاد و تلقین کے منصب پر فائز ہوئے، آپ کو شاعری سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور برجستہ و فی البدیہہ اشعار کہنے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے، آپ کا کلام فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں ملتا ہے اور آپ عینی تخلص کرتے تھے، آپ کی علمی و ادبی تصانیف میں “کاشف الاستار”، “فیض الکلمات”، “مثنوی اتفاقیہ”، “قصیدہ گوہر بار” اور “رسالہ عقائد” کے علاوہ متعدد بیاضیں شامل ہیں، ۱۴ محرم ۱۱۹۸ھ بروز چہار شنبہ بعد نمازِ مغرب آپ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔