حمزہ عینی مارہروی کا تعارف
شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی (1131ھ–1198ھ) سلسلۂ قادریہ کے جلیل القدر صوفی بزرگ، عالمِ باعمل، صاحبِ قلم مصنف اور مرشدِ کامل تھے، آپ ’’اسد العارفین‘‘، ’’قطب الکاملین‘‘ اور ’’حجۃ الواصلین‘‘ جیسے القابات سے معروف تھے، آپ کی ولادت 14 ربیع الثانی 1131ھ کو مارہرہ میں ایک ممتاز سادات خاندان میں ہوئی، آپ حضرت شاہ برکت اللہ مارہروی کے پوتے اور حضرت شاہ آل محمد کے فرزند تھے، ابتدائی و اعلیٰ تعلیم اپنے والد اور دیگر جید علما سے حاصل کی، آپ کو فقہ، حدیث، تصوف، طب اور مختلف علوم و فنون پر گہری دسترس حاصل تھی، بیعت و خلافت اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی اور سلسلۂ قادریہ کے پینتیسویں امام و شیخِ طریقت بنے، زہد و عبادت کا یہ عالم تھا کہ دس برس کی عمر سے تہجد کے پابند رہے اور عمر بھر اسے ترک نہ کیا، شاہ حمزہ مارہروی علم و عرفان، جود و سخا، مہمان نوازی اور خدمتِ خلق میں ممتاز مقام رکھتے تھے، آپ کا کتب خانہ نادر و نایاب کتابوں کا عظیم ذخیرہ تھا، آپ کی اہم تصانیف میں فص الکلمات، کاشف الاستار، مثنوی اتفاقیہ، قصیدۂ گوہربار اور رسالۂ عقائد شامل ہیں، آپ فارسی و اردو کے صاحبِ طرز شاعر بھی تھے اور مشہور منقبت ’’غوثِ اعظم بمن بے سرو ساماں مددے‘‘ آپ ہی کی تصنیف ہے، آپ کے اکتیس خلفا نے آپ کے روحانی فیوض کو برصغیر کے مختلف علاقوں تک پہنچایا، آپ کا وصال 14 محرم الحرام 1198ھ موافق 10 دسمبر 1783ء کو ہوا، آپ کی حیاتِ طیبہ علم، تصوف، عشقِ رسول، سخاوت اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ ہے اور آج بھی آپ کا فیضان طالبانِ حق کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔