Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

حشر بدایونی

1914 | بدایوں, بھارت

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب، مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کے شاگرد تھے، "میزانِ حشر" ان کا معروف شعری مجموعہ جبکہ "ٹوٹے ہوئے دل" ان کی نمایاں نثری تصنیف ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب، مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کے شاگرد تھے، "میزانِ حشر" ان کا معروف شعری مجموعہ جبکہ "ٹوٹے ہوئے دل" ان کی نمایاں نثری تصنیف ہے۔

حشر بدایونی کا تعارف

تخلص : 'حشر'

اصلی نام : حشرالقادری

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

حشر بدایونی کا تعلق ایک ایسے معزز اور روحانی خانوادے سے تھا جس کی بنیاد زہد و تقویٰ، علم و عرفان اور خدمتِ دین پر استوار تھی، ان کے مورثِ اعلیٰ حضرت شیخ عبداللہ عارف باللہ اپنے عہد کے جلیل القدر بزرگ، صاحبِ کرامت ولی اور کامل صوفی تھے، آپ کا آبائی وطن پنجاب کا تاریخی شہر سامانہ تھا، اپنے پیر و مرشد کے حکم اور اشارت کے مطابق تبلیغِ دین اور اشاعتِ حق کے مقصد سے بدایوں تشریف لائے اور پھر اسی سرزمین کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا، حشر بدایونی کے والد عطا حسین قادری ریاست گوالیار کے محکمۂ انجینئرنگ سے وابستہ تھے اسی نسبت سے حشر بدایونی کی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم گوالیار ہی میں ہوئی، انہوں نے 1935ء میں اپنی تعلیمی منازل طے کرکے فراغت حاصل کی اور علمی و ادبی دنیا میں قدم رکھا۔
ابتدائے شباب ہی سے شعر و ادب کے ساتھ ان کا قلبی تعلق قائم ہوچکا تھا، فطرت نے انہیں موزوں طبع عطا کی تھی اور سخن وری کا ذوق ودیعت کیا تھا، چنانچہ انہوں نے شاعری کی باقاعدہ تربیت مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کی شاگردی میں حاصل کی، اساتذۂ فن کی رہنمائی اور اپنی فطری صلاحیت کے امتزاج نے ان کے شعری جوہر کو جلا بخشی اور وہ اپنے عہد کے معتبر شعرا میں شمار ہونے لگے۔
ان کا شعری سرمایہ ’’میزانِ حشر‘‘ کے نام سے شائع ہوا جو ان کی فکری و فنی کاوشوں کا آئینہ دار ہے، اس مجموعے میں نظموں کا حصہ غزلوں کی نسبت زیادہ ہے، جس سے ان کے رجحانِ فکر اور اصلاحی و قومی موضوعات سے گہری وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے، شاعری کے علاوہ نثر نگاری کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے نقوش ثبت کیے، ان کی نثری تحریروں کا ایک مجموعہ ’’ٹوٹے ہوئے دل‘‘ کے عنوان سے 1926ء میں منظرِ عام پر آیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے