Font by Mehr Nastaliq Web
Hasrat Azimabadi's Photo'

حسرت عظیم آبادی

1816 - 1886 | پٹنہ, بھارت

عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔

عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔

حسرت عظیم آبادی کا تعارف

تخلص : 'حسرت'

اصلی نام : محمد سعید

پیدائش :پٹنہ, بہار

وفات : بہار, بھارت

مولانا محمد سعید حسرت عظیم آبادی کی ولادت 28 ذیقعدہ 1231ھ میں ہوئی، آپ کا سلسلۂ نسب پدری حضرت عبداللہ بن عباس سے جا ملتا ہے، آپ کے والد منشی واعظ علی اور اجداد میں شیخ عمر دراز اور مولوی فقیراللہ جیسی علمی شخصیات شامل تھیں، ابتدائی تعلیم ملا شعیب مسافر سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں مولوی مظہر علی، مولوی ابوالحسن، مولوی اشرف حسین، مولوی سلامت اللہ اور مولوی ظہوراللہ لکھنوی سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل کی۔ حدیث کی اجازت سید محمد عطوشی، سید محمد سنوسی مغربی اور شیخ عبدالغنی سمیت متعدد اکابر محدثین سے حاصل کی، کم عمری ہی میں آپ کو حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے ممتاز تلمیذ و مرید مولوی مرزا حسن علی محدث لکھنوی کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ حصولِ علم کے لیے آپ نے لکھنؤ، کانپور، اناؤ اور الہ آباد کے اسفار کیے، آپ ایک صاحبِ حال صوفی، زاہد اور درویش شخصیت تھے، پٹنہ سٹی کے محلہ مغل پورہ میں آپ نے ایک معیاری مدرسہ قائم کیا، جہاں تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام تھا، روایت ہے کہ آپ کی خانقاہ بھی آپ کی حیاتِ مبارکہ تک علمی و روحانی مرکز کے طور پر قائم رہی، علم و ادب کے میدان میں آپ کو صفِ اول کے شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں پر یکساں عبور حاصل تھا۔ آپ کی علمی و ادبی تصانیف ’’قسطاس البلاغہ‘‘ اور ’’تحفۃ الاخوان‘‘ آپ کے تبحرِ علمی اور گہرے ادبی شعور کی آئینہ دار ہیں، معاصر صوفیہ میں بھی آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا، حضرت مخدوم شاہ محمد سجاد پاک کی نمازِ جنازہ آپ ہی نے پڑھائی اور ان کے وصال پر قطعۂ تاریخ بھی تحریر فرمایا، اسی طرح متعدد مشائخ و صوفیہ کی وفات پر آپ کے لکھے ہوئے قطعاتِ تاریخ محفوظ ہیں، آپ کی علمی خدمات کے اعتراف میں 1303ھ میں ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب عطا کیا گیا، آپ نے اپنے عہد میں علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مدارس قائم کیے اور سیکڑوں مشاعروں کا انعقاد کیا، آپ کے نواسے حفیظ عظیم آبادی نے بھی علم و ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے کر خاندانی روایت کو آگے بڑھایا۔

موضوعات

Recitation

بولیے