Font by Mehr Nastaliq Web
Hasrat Jaipuri's Photo'

حسرت جے پوری

1922 - 1999 | ممبئی, بھارت

اردو کے ممتاز شاعر اور بالی ووڈ کے شہرۂ آفاق نغمہ نگار تھے، راج کپور کی فلموں کے لیے لکھے گئے "بہاروں پھول برساؤ"، "زندگی ایک سفر ہے سہانا" اور "احسان تیرا ہوگا مجھ پر" جیسے لازوال گیت ان کی ادبی و فنی عظمت کے شاہد ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر اور بالی ووڈ کے شہرۂ آفاق نغمہ نگار تھے، راج کپور کی فلموں کے لیے لکھے گئے "بہاروں پھول برساؤ"، "زندگی ایک سفر ہے سہانا" اور "احسان تیرا ہوگا مجھ پر" جیسے لازوال گیت ان کی ادبی و فنی عظمت کے شاہد ہیں۔

حسرت جے پوری کا تعارف

تخلص : 'حسرت'

اصلی نام : اقبال حسین

پیدائش : 15 Apr 1922 | جئے پور, راجستھان

وفات : 17 Sep 1999 | مہاراشٹرا, بھارت

حسرت جے پوری اردو اور ہندی کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور ہندوستانی فلمی صنعت کے ممتاز گیت کار تھے، ان کا اصل نام اقبال حسین تھا، 15 اپریل 1922ء کو جے پور میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انگریزی میڈیم میں حاصل کی، جبکہ اردو اور فارسی کی تعلیم اپنے نانا معروف شاعر فدا حسین فدا سے پائی، نوجوانی ہی سے شعر و سخن سے گہرا شغف تھا اور تقریباً بیس برس کی عمر میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، 1940ء میں روزگار کی تلاش میں ممبئی پہنچے، جہاں ابتدائی دنوں میں بس کنڈکٹر کی حیثیت سے ملازمت کی، اس دوران وہ مشاعروں میں بھی سرگرم رہے، ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کپور ان کے کلام سے متاثر ہوئے اور انہیں اپنے فرزند راج کپور سے متعارف کرایا، چنانچہ راج کپور کی فلم برسات (1949ء) کے لیے ان کا پہلا گیت "جیا بے قرار ہے" ریکارڈ ہوا جو بے حد مقبول ثابت ہوا، اسی فلم کا گیت "چھوڑ گئے بالم" ان کا پہلا دوگانہ تھا۔
حسرت جے پوری نے شیلندر اور موسیقار جوڑی شنکر-جیکشن کے ساتھ مل کر ہندی فلمی موسیقی کے سنہری دور کو بے شمار لازوال نغمے عطا کیے، انہوں نے راج کپور کی بیشتر یادگار فلموں کے لیے گیت لکھے اور فلمی شاعری کو ادبی وقار بخشا، ان کے مقبول ترین نغموں میں "بہاروں پھول برساؤ"، "زندگی ایک سفر ہے سہانا"، "احسان تیرا ہوگا مجھ پر"، "تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے"، "بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے"، "سایونارا سایونارا"، "سن صاحبہ سن" اور "یہ میرا پریم پتر پڑھ کر" شامل ہیں، ان کے گیت اپنی سادگی، موسیقیت، رومانیت اور جذباتی اثر آفرینی کے باعث آج بھی عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں، فلمی نغمہ نگاری کے علاوہ حسرت جے پوری ایک صاحبِ طرز شاعر بھی تھے، ان کا شعری مجموعہ "آبشارِ غزل" ان کی ادبی خدمات کا اہم حوالہ ہے، وہ اردو اور ہندی کو ایک ہی تہذیبی اور ثقافتی روایت کی دو بہنیں قرار دیتے تھے اور اپنی شاعری میں دونوں زبانوں کی شیرینی اور لطافت کو یکجا کرتے تھے، ان کی ادبی اور فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں دو مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا، 1967ء میں فلم سورج کے شہرۂ آفاق گیت "بہاروں پھول برساؤ" اور 1972ء میں فلم انداز کے مقبول نغمے "زندگی ایک سفر ہے سہانا" پر یہ اعزاز حاصل ہوا، اس کے علاوہ انہیں جوش ملیح آبادی ایوارڈ، ڈاکٹر امبیڈکر ایوارڈ اور متعدد دیگر اعزازات سے بھی نوازا گیا، ورلڈ یونیورسٹی راؤنڈ ٹیبل نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی، 17 ستمبر 1999ء کو حسرت جے پوری اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے لیکن ان کے نغمے آج بھی برصغیر کی ادبی اور موسیقیاتی روایت کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے