Font by Mehr Nastaliq Web
Hassan Raza Barelvi's Photo'

حسن رضا بریلوی

1859 - 1908 | بریلی, بھارت

معروف عالم دین اور کامیاب شاعر تھے، وہ امام احمد رضا بریلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی شہرت کا ایک سبب ان کا لکھا ہوا نعتیہ کلام کا گلدستہ "ذوق نعت" بھی ہے۔

معروف عالم دین اور کامیاب شاعر تھے، وہ امام احمد رضا بریلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی شہرت کا ایک سبب ان کا لکھا ہوا نعتیہ کلام کا گلدستہ "ذوق نعت" بھی ہے۔

حسن رضا بریلوی کا تعارف

تخلص : 'حسن'

اصلی نام : حسن رضا

پیدائش : 19 Oct 1859 | بریلی, اتر پردیش

وفات : 18 Oct 1908 | اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : احمد رضا خاں (بھائی), داغ دہلوی (مرید)

حسن رضا خاں بریلوی برصغیر کے ممتاز نعت گو شاعر، فاضلِ جلیل اور اہلِ علم و ادب کے درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں، آپ کا اسمِ گرامی محمد حسن رضا تھا، آپ کا تعلق اس باوقار علمی خانوادے سے تھا جس میں مولانا مفتی نقی علی خاں اور مولانا رضا علی خاں جیسے اکابرِ علم و فضل شامل ہیں، اسی نسبت سے آپ کا سلسلۂ نسب نہایت شرف و وقار کا حامل ہے، آپ کی ولادت 4 ربیع الاول 1276ھ مطابق 19 اکتوبر 1859ء کو بریلی کے اس علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی جو بعد ازاں برصغیر میں دینی و ادبی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا، ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی مولانا مفتی نقی علی خاں اور اپنے برادرِ اکبر مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے زیرِ سایہ حاصل کی، علمی و ادبی ذوق کو جلا دینے میں ان ہی بزرگوں کی صحبت اور تربیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، فنِ شاعری میں آپ نے اپنے برادرِ اکبر اور داغ دہلوی سے بھی استفادہ کیا، روحانی اعتبار سے آپ کو حضرت سید ابوالحسین احمد نوری کے دستِ حق پر بیعت کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ کو خلافت و اجازت سے بھی نوازا گیا، جس سے آپ کی روحانی نسبت و مقام مزید مستحکم ہوا، حسن رضا بریلوی علم و فن، شعر و سخن اور نعت گوئی کے میدان میں ایک منفرد مقام کے حامل تھے، آپ کو “استاذِ زمن” اور “تاجدارِ فکر و فن” جیسے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے، آپ کی شاعری میں محبتِ رسول کی وارفتگی، عقیدت کی پاکیزگی اور جذبات کی صداقت نمایاں ترین اوصاف ہیں، آپ کے کلام میں زبان و بیان کی شائستگی، فکر کی بلندی، تصوف کی لطافت اور فنی محاسن کی جلوہ گری بدرجۂ اتم موجود ہے، آپ کی اہم تصانیف میں ذوقِ نعت، وسائلِ بخشش، صمصامِ حسن، ثمرِ فصاحت، قندِ پارسی، ساغرِ پُر کیف، نگارستانِ لطافت، دینِ حسن، آئینۂ قیامت اور متعدد دیگر علمی و دینی رسائل شامل ہیں، یہ تمام تصانیف آپ کے فکری تنوع، علمی رسوخ اور ادبی ذوق کی آئینہ دار ہیں، آپ نے 3 شوال المکرم 1326ھ کو وصال فرمایا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، آپ کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کے لیے مرجعِ خلائق اور روحانی فیوض و برکات کا مرکز ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے