Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

حیا بدایونی

بدایوں, بھارت

درگاہ حضرت نظام الدین کی روحانی فضا میں پروان چڑھنے والی صوفیانہ شخصیت۔

درگاہ حضرت نظام الدین کی روحانی فضا میں پروان چڑھنے والی صوفیانہ شخصیت۔

حیا بدایونی کا تعارف

تخلص : 'حیا'

اصلی نام : عبدالرحمٰن

مولوی عبدالرحمٰن ولد مولانا احمد حسن شاہ، بدایوں کے قاضی ٹولہ کے معزز خانوادۂ بنو حمید سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 1277ھ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم میر ولایت حسین آنولوی (ساکن آنولہ، بریلی) سے حاصل کی، بعد ازاں مولوی محمد حسین سے فارسی اور سید عبدالکریم سمرقندی سے عربی کی تحصیل کی، مولانا سمرقندی ہی کے دستِ مبارک سے آپ کو دستارِ فضیلت عطا ہوئی اور انہی کی صحبت نے آپ کے دل میں تصوف و معرفت کی گہری رغبت پیدا کی، ابتدائی ایام میں آپ نے کچھ عرصہ ریلوے گارڈ کی حیثیت سے ملازمت کی مگر جلد ہی دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر روحانی سفر کی طرف متوجہ ہوئے، اسی سلسلے میں اجمیر کا رخ کیا اور سلسلۂ چشتیہ نظامیہ میں خواجہ اللہ بخش تونسوی کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا، مرشد کی فیض بخش صحبت میں آپ نے نہایت قلیل مدت میں سلوک و فقر کے منازل طے کیے اور پھر خود رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا، آپ کا بیشتر قیام دہلی میں رہا جہاں آپ حضرت نظام الدین اؤلیا کی درگاہ کے ایک حجرے میں مقیم رہے، اسی روحانی فضا میں آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور بالآخر 4 جمادی الثانی 1360ھ مطابق 9 جون 1941ء کو وہیں وصال فرمایا، علمی و ادبی اعتبار سے بھی آپ کی شخصیت قابلِ ذکر ہے، تصوف کے موضوع پر آپ کی تصنیف "مخزنِ تصوف" ایک یادگار حیثیت رکھتی ہے، جس میں سلوک و معرفت کے نکات نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیے گئے ہیں، علاوہ ازیں آپ نعت و منقبت کے صاحبِ ذوق شاعر بھی تھے جن کے کلام میں عشقِ رسول  اور اؤلیائے کرام سے عقیدت کی پاکیزہ جھلک نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے