ہیرانند سوز کا تعارف
ہیرانند سوز کا شمار ہریانہ کے ممتاز شعرا اور نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے، ان کی ولادت 19 مئی 1923ء کو میانوالی میں ہوئی، ان کے والد ٹیک چند مظفرگڑھ میں پولیس افسر تھے، اس لیے ان کے بچپن کا ایک حصہ وہیں گزرا، ابھی وہ دسویں جماعت کے طالب علم ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا لیکن اس عظیم صدمے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، اس کے بعد وہ انجینئرنگ کے پانچ سالہ کورس کی تعلیم کے لیے لاہور گئے، لاہور کا علمی و ادبی ماحول ان کی فطرت سے پوری طرح ہم آہنگ ثابت ہوا اور یہیں ادب سے ان کی وابستگی مزید مضبوط ہوئی، 1943ء میں انہوں نے محکمۂ ریلوے میں ملازمت اختیار کی، اسی زمانے میں ان کا رجحان شعر و شاعری کی طرف بڑھا جس میں قمر جلال آبادی کا خصوصی اثر رہا جو اس وقت لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ "اسٹار" کے مدیر تھے، اسی عرصے میں ان کے تعلقات ممتاز افسانہ نگار رام لعل سے استوار ہوئے، اس قربت نے ان کے افسانوی ذوق کو نئی جہت عطا کی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنا افسانوی مجموعہ "ساحل، سمندر اور سیپ" رام لعل کے نام معنون کیا، ہیرانند سوز نے شاعری اور افسانہ نگاری، دونوں میدانوں میں یکساں کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں، ان کے افسانے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے اور اہلِ ادب نے انہیں قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا، ان کے افسانوی مجموعوں میں "کاغذ کی دیوار"، "ساحل، سمندر اور سیپ" اور "نقش گر" شامل ہیں، جبکہ ان کا شعری مجموعہ "سورج میرے تعاقب میں" بھی اہلِ ادب میں مقبول ہوا، اگرچہ ان کی ادبی شہرت بنیادی طور پر افسانہ نگاری اور غزل گوئی کی بنا پر قائم ہوئی، تاہم نعت گوئی سے بھی انہیں گہرا شغف تھا، ان کے نعتیہ کلام میں محبتِ رسولِ اکرم، عقیدت، خلوص اور سادگیِ بیان کا حسین امتزاج ملتا ہے جو ان کی شعری شخصیت کا ایک اہم اور قابلِ قدر پہلو ہے۔