ہمام تبریزی کا تعارف
ہمام تبریزی (617ھ ش–693ھ ش) عہدِ ایلخانی کے ممتاز فارسی صوفی شاعر تھے، جنہوں نے فارسی، عربی، آذریِ قدیم اور تاتی زبانوں میں شاعری کی، انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تبریز میں گزارا اور خاندانِ جوینی کی سرپرستی میں ایک اہم علمی و روحانی شخصیت کے طور پر شہرت حاصل کی، ان کا تعلق سلسلۂ کبرویہ سے تھا اور وہ خواجہ نصیرالدین طوسی اور قطب الدین شیرازی جیسے اکابر اہلِ علم سے وابستہ رہے، ہمام کی شاعری پر سنائی، انوری اور خصوصاً شیخ سعدی کا گہرا اثر تھا، یہاں تک کہ انہیں بعد میں ’’سعدیِ آذربائیجان‘‘ کہا جانے لگا، ان کے دیوان میں زیادہ تر غزلیں شامل ہیں جن کا بنیادی موضوع عشقِ حقیقی، تصوف اور اخلاقی تعلیمات ہیں، ان کی دو مشہور مثنویاں ’’صحبت نامہ‘‘ اور ’’کتابِ مثنویات‘‘ ہیں، ہمام 693ھ میں 78 برس کی عمر میں وفات پا گئے اور تبریز کے سرخاب قبرستان میں مدفون ہوئے، فارسی ادب کے ناقدین اور محققین نے انہیں آذربائیجان کے عظیم ترین کلاسیکی فارسی شاعروں اور اپنے عہد کی نمایاں صوفی شخصیات میں شمار کیا ہے۔