Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ابراہیم علی روحی

1860 - 1934 | ٹونک, بھارت

ریاستِ ٹونک کے ممتاز صوفی شاعر تھے، "خورشیدِ روحی" ان کی معروف شعری یادگار ہے اور نعتیہ شاعری میں انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

ریاستِ ٹونک کے ممتاز صوفی شاعر تھے، "خورشیدِ روحی" ان کی معروف شعری یادگار ہے اور نعتیہ شاعری میں انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

ابراہیم علی روحی کا تعارف

تخلص : 'روحی'

اصلی نام : ابراہیم علی

پیدائش :سنبھل, اتر پردیش

وفات : 26 Feb 1934 | راجستھان, بھارت

مولانا محمد ابراہیم علی خاں روحیؔ سنبھلی ان اہلِ علم و عرفان میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی، روحانی اور ادبی صلاحیتوں کے ذریعے ریاستِ ٹونک کی تہذیبی و ادبی زندگی میں گراں قدر خدمات انجام دیں، آپ 1860ء میں سنبھل میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام کفایت اللہ خاں تھا، ابھی عمرِ طفلی ہی میں تھی کہ سایۂ پدری سر سے اٹھ گیا اور آپ یتیمی کے کٹھن مرحلے سے دوچار ہوئے مگر فطری ذوقِ علم اور بلند حوصلگی نے اس محرومی کو آپ کے علمی و روحانی ارتقا کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا، صاحبزادہ محمد علی خاں سنبھلی سے وابستگی کے باعث آپ ٹونک تشریف لائے جو اس زمانے میں علم و ادب کا ایک اہم مرکز تھا، یہاں آپ نے حکیم سید برکات احمد کی شاگردی اختیار کی اور ان سے مختلف علوم و فنون میں کسبِ فیض کیا، تکمیلِ تعلیم کے بعد آپ اپنی قابلیت، دیانت اور حسنِ انتظام کے باعث ریاستِ ٹونک کے متعدد معزز اور اہم عہدوں پر فائز رہے، روحانی اعتبار سے آپ کو مولوی محمد علی شاہ حصاری سے شرفِ بیعت حاصل ہوا، ان کی تربیت اور فیضانِ صحبت نے آپ کے باطن کو جلا بخشی، یہاں تک کہ آپ کو منصبِ خلافت سے بھی سرفراز کیا گیا، اس طرح آپ کی شخصیت میں علم و عمل، شریعت و طریقت اور ادب و تصوف کا حسین امتزاج پیدا ہوگیا، شاعری آپ کے مزاج کا فطری حصہ تھی، اردو اور فارسی دونوں زبانوں پر آپ کو یکساں عبور حاصل تھا، چہار بیتی میں "فیض" اور غزلیات میں "روحی" تخلص اختیار کرتے تھے، خصوصاً نعتیہ غزلوں میں آپ کا رنگ نہایت دل آویز، پُرسوز اور عقیدت آمیز ہے، جس میں عشقِ رسول کی والہانہ کیفیت نمایاں نظر آتی ہے، افسوس کہ آپ کے کلام کا ایک بڑا حصہ خاکستر ہوگیا، تاہم جو سرمایہ محفوظ رہ سکا وہ بعد ازاں "خورشیدِ روحی"کے نام سے شائع ہوا، اس مجموعۂ کلام میں اردو اور فارسی دونوں زبانوں کا منتخب شعری سرمایہ شامل ہے۔
روحی نے ایک بامقصد، باوقار اور خدمتِ دین و ادب سے معمور زندگی گزاری، بالآخر 26 فروری 1934ء کو یہ آفتابِ علم و عرفان غروب ہوگیا، آپ کی وفات سے ٹونک کے علمی و ادبی حلقوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے مدتوں محسوس کیا جاتا رہا، آج بھی آپ کا نام ریاستِ ٹونک کی علمی، روحانی اور شعری روایت کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے