Font by Mehr Nastaliq Web
Ibrahim Raza Khan's Photo'

ابراہیم رضا خاں

1907 - 1965 | بریلی, بھارت

مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے نبیرہ، مفسرِ اعظمِ ہند کے خطاب سے مشہور

مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے نبیرہ، مفسرِ اعظمِ ہند کے خطاب سے مشہور

ابراہیم رضا خاں کا تعارف

تخلص : 'ابراہیم'

اصلی نام : ابراہیم رضا

پیدائش :بریلی, اتر پردیش

وفات : 12 Jun 1965 | اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : حامد رضا خاں (والد), احمد رضا خاں (دادا)

مولانا محمد ابراہیم رضا خاں علمی و روحانی روایت کے ایک درخشاں ستارے، بلند پایہ مفسر، صاحبِ سلوک شیخ، قادرالکلام مقرر اور باوقار مصنف تھے، آپ نے اپنے علم و عمل، زہد و تقویٰ اور حسنِ اخلاق کے ذریعے لاکھوں قلوب کو متاثر کیا اور خانوادۂ رضویہ کی علمی و روحانی عظمت کو نئی رفعتوں سے آشنا کیا، آپ 1907ء میں بریلی کے اس علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے جو مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے نام سے عالمِ اسلام میں معروف ہے، آپ مولانا حامد رضا خاں کے فرزندِ ارجمند اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے پوتے تھے، آپ کی ابتدائی تربیت نہایت دینی ماحول میں ہوئی، قرآنِ کریم کی تعلیم اور اردو کی ابتدائی کتابیں آپ نے اپنی والدہ اور دادی محترمہ کی نگرانی میں پڑھیں، بعد ازاں آپ کو جامعہ منظرِ اسلام میں داخل کیا گیا جہاں اس زمانے کے ممتاز اساتذہ، مولانا احسان علی محدث فیض پوری، مولانا حامد رضا خاں اور سردار احمد چشتی سے کسبِ فیض کا شرف حاصل ہوا، آپ نے کم عمری ہی میں علومِ دینیہ کی تکمیل کر لی اور 1344ھ/1926ء میں دستارِ فضیلت سے سرفراز ہوئے، اس موقع پر آپ کے والد ماجد نے اپنے دستِ مبارک سے آپ کے سر پر دستار باندھ کر علمی جانشینی کی ایک روشن روایت کو آگے بڑھایا۔
والد کے وصال کے بعد آپ ان تمام علمی، روحانی اور انتظامی ذمہ داریوں کے وارث بنے جو خانوادۂ رضویہ سے وابستہ تھیں، آپ خانقاہ رضویہ کے سجادہ نشیں، جامعہ رضویہ منظرِ اسلام کے سرپرست اور رضا جامع مسجد و درگاہِ اعلیٰ حضرت کے متولی مقرر ہوئے، ان مناصب پر فائز رہتے ہوئے آپ نے نہایت حکمت، وقار اور اخلاص کے ساتھ دینی خدمات انجام دیں اور اہلِ سنت کی علمی قیادت کا فریضہ سر انجام دیا، روحانی اعتبار سے آپ کو غیر معمولی امتیاز حاصل تھا، محض چار برس کی عمر میں آپ اپنے جدِ امجد مولانا احمد رضا بریلوی کے دستِ حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے اور سلسلۂ قادریہ برکاتیہ کی خلافت بھی حاصل کی، بعد ازاں اپنے والد مولانا حامد رضا خاں اور چچا مولانا مصطفیٰ رضا خاں سے بھی روحانی فیوض و برکات حاصل کیے، آپ سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے بیالیسویں شیخ کی حیثیت سے معروف ہوئے اور آپ کی خانقاہ سے ہزاروں طالبانِ حق نے فیض حاصل کیا، 1372ھ میں آپ نے حرمین شریفین کی سعادت حاصل کی، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اکابر علما سے حدیثِ نبوی، دلائل الخیرات اور حزب البحر کی متعدد اجازتیں حاصل کیں، آپ کی علمی و روحانی شخصیت نے ایک وسیع حلقۂ ارادت و تلمذ پیدا کیا، آپ کے ممتاز تلامذہ اور خلفا میں مولانا ریحان رضا خاں، مولانا اختر رضا خاں، عبدالواحد قادری جیلانی، شمس اللہ رضوی حسامتی بستوی، عبدالحکیم رضوی جیلانی اور افاض احمد رضوی جیلانی جیسے نامور اہلِ علم شامل ہیں، جنہوں نے بعد میں مختلف علاقوں میں اہلِ سنت کی علمی و دینی خدمات کو آگے بڑھایا، اشاعتِ دین اور فروغِ مسلک کے لیے آپ نے ماہنامہ "اعلیٰ حضرت"کا اجرا کیا۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں، آپ کی علمی یادگاروں میں ذکراللہ، نعمت اللہ، حجت اللہ، فضائلِ درود شریف، تفسیر سورۂ بلد اور تشریح قصیدۂ مؤمنیہ جیسی اہم تصانیف شامل ہیں، آپ کی ازدواجی زندگی بھی خانوادۂ رضویہ ہی سے وابستہ رہی، آپ کا نکاح مولانا مصطفیٰ رضا خاں کی بڑی صاحبزادی سے ہوا، جسے خاندان کے بزرگوں نے بچپن ہی میں طے کر دیا تھا، خدا نے آپ کو پانچ صاحبزادوں اور تین صاحبزادیوں سے نوازا، جن میں مولانا اختر رضا خاں کا نام خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے، زندگی کے آخری تین برس آپ علالت میں مبتلا رہے لیکن بیماری کی اس حالت میں بھی ذکر و فکر، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ خلق کا سلسلہ جاری رکھا، بالآخر 11 صفر المظفر 1385ھ مطابق 12 جون 1965ء کو یہ آفتابِ علم و عرفان غروب ہوگیا، آپ کی نمازِ جنازہ اسلامیہ انٹر کالج، بریلی میں ادا کی گئی جس کی امامت مولانا افضل حسین نے فرمائی، بعد ازاں آپ کو بریلی میں درگاہ اعلیٰ حضرت کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Recitation

بولیے