Font by Mehr Nastaliq Web
Ibrat Bahraichi's Photo'

عبرت بہرائچی

1933 - 2021 | بہرائچ, بھارت

بہرائچ کے ممتاز شاعر، محقق اور کثیرالتصنیف ادیب تھے، نشور واحدی کے شاگرد تھے اور "کاروانِ فکر"، "آبروئے دو جہاں" اور "نامورانِ بہرائچ" جیسی اہم تصانیف ان کی علمی و ادبی خدمات کی نمائندہ ہیں۔

بہرائچ کے ممتاز شاعر، محقق اور کثیرالتصنیف ادیب تھے، نشور واحدی کے شاگرد تھے اور "کاروانِ فکر"، "آبروئے دو جہاں" اور "نامورانِ بہرائچ" جیسی اہم تصانیف ان کی علمی و ادبی خدمات کی نمائندہ ہیں۔

عبرت بہرائچی کا تعارف

تخلص : 'عبرت'

اصلی نام : عبدالعزیز

پیدائش : 01 Jan 1933 | بہرائچ, اتر پردیش

وفات : 25 Apr 2021 | اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : نشور واحدی (مرشد)

اردو شعر و ادب کی سرزمینِ بہرائچ نے جن نامور اہلِ قلم کو جنم دیا، ان میں عبرت بہرائچی کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے، آپ کا اصل نام عبدالعزیز تھا، یکم جنوری 1933ء کو محلہ ناظرپورہ، بہرائچ میں آنکھ کھولی اور ایک طویل علمی و ادبی سفر طے کرنے کے بعد 25 اپریل 2021ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، عبرت کو شعر و سخن کا ذوق وراثت میں ملا تھا، ان کے پردادا ضامن علی خاں انیقؔ اپنے عہد کے معروف استاد شاعر تھے، اسی ادبی فضا نے ان کے اندر شعری شعور کو جلا بخشی، بعد ازاں انہوں نے معروف شاعر نشور واحدی سے اصلاح و مشورۂ سخن حاصل کیا اور ان کی رہنمائی میں اپنے فنی جوہر کو مزید نکھارا، عبرت بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے لیکن ان کی نعتیہ شاعری بھی عقیدت، محبتِ رسول اور وارفتگیِ قلب کا حسین مرقع ہے، ان کے کلام میں سادگیِ بیان، شائستگیِ زبان، فکری پختگی اور جذبے کی سچائی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے، ادبی دنیا میں عبرت کی ایک منفرد شناخت ان کی کثیر التصنیف شخصیت بھی ہے، وہ چار درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے، ان کی شعری تصانیف میں ’’تحقیق و جستجو‘‘، ’’موجِ فکر‘‘، ’’آبروئے دو جہاں‘‘، ’’مقصودِ کن فکاں‘‘، ’’رسالت مآب‘‘، ’’عظیم تاریخ‘‘، ’’درِ ناسفتہ‘‘ اور ’’کاروانِ فکر‘‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں جو ان کے فکری تنوع اور ادبی بصیرت کی غماز ہیں، نثر کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت وقیع اور قابلِ قدر ہیں، ’’نامورانِ بہرائچ‘‘، ’’اردو کی بنیادی باتیں‘‘، ’’محصنِ اردو ادب‘‘ اور ’’آئینِ شاعری‘‘ جیسی تصانیف ان کے وسیع مطالعے، تحقیقی مزاج اور علمی گہرائی کی شاہد ہیں، عبرت کی پوری زندگی علم، ادب اور عشقِ رسول سے عبارت تھی۔

موضوعات

Recitation

بولیے