افتخارالحق مجیبی کا تعارف
تخلص : 'بسمل'
اصلی نام : افتخارالحق صدیقی
وفات : مغربی بنگال, بھارت
رشتہ داروں : شاہ طالب حسین مجیب (مرشد)
افتخارالحق مجیبی ان جلیل القدر صوفیائے کرام، اہلِ علم اور اصحابِ معرفت میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی، روحانی اور اصلاحی خدمات کے ذریعے ایک وسیع حلقۂ ارادت و عقیدت پیدا کیا اور اپنے عہد میں رشد و ہدایت کا ایک روشن مینار ثابت ہوئے، آپ 1880ء میں ریاستِ ٹونک کے ایک معزز اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد گرامی مولانا محمد انصارالحق ریاستِ ٹونک میں امیر منشی کے منصب پر فائز تھے اور علم و فضل، دیانت و شرافت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے تھے، اسی علمی و دینی ماحول میں آپ کی ابتدائی تربیت ہوئی اور کم سنی ہی سے علم و عرفان کے چراغ ان کے قلب و نظر کو منور کرنے لگے، تحصیلِ علم کے لیے آپ نے اترپردیش کے مختلف علمی مراکز کا سفر کیا اور طب، علومِ دینیہ، فقہ، حدیث اور تصوف میں گہری بصیرت حاصل کی، آپ کے اساتذۂ کرام میں مولانا عنایت اللہ خاں قادری اور مولانا حامد عبدالقادر عثمانی کے اسمائے گرامی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، ان بزرگوں کی علمی و روحانی تربیت نے آپ کی شخصیت کو جلا بخشی اور آپ کو علومِ ظاہر و باطن کا جامع بنا دیا، تصوف کی طرف آپ کا رجحان بچپن ہی سے نمایاں تھا، اس راہِ سلوک میں ابتدائی نسبت آپ کو اپنے عمِ مکرم مولانا محمد نعمان الحق قادری لکھیم پوری سے حاصل ہوئی جن کی صحبت نے آپ کے ذوقِ معرفت کو مہمیز دی، بعد ازاں شاہ مراداللہ صفوی اور مولانا محمد علی شاہ ٹونکی جیسے اکابرِ طریقت کی فیض رساں توجہات بھی آپ کو میسر آئیں، جنہوں نے آپ کے روحانی سفر کو مزید استحکام بخشا، تاہم آپ کی روحانی تکمیل کا سب سے اہم مرحلہ وہ تھا جب آپ کو شاہ طالب حسین قادری مجیب فرخ آبادی کی صحبتِ بافیض نصیب ہوئی، ان کی تربیت و توجہ نے آپ کے اندر وحدت الوجودی مشرب کے ذوق و شوق کو جلا بخشی اور اسرارِ معرفت کے وہ در وا کیے جن تک رسائی ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتی، ان کے علمِ باطن، رشد و ہدایت اور فیضانِ نظر نے آپ کو کمالِ سلوک کی منزلوں تک پہنچایا اور بالآخر خرقۂ خلافت و اجازت سے بھی سرفراز فرمایا، آپ نہ صرف ایک صاحبِ حال صوفی تھے بلکہ صاحبِ قلم مصنف اور صاحبِ فکر محقق بھی تھے، آپ نے تصوف، عقائد، اصلاحِ باطن اور دینی موضوعات پر متعدد علمی و روحانی تصانیف یادگار چھوڑیں، ان کی مطبوعہ کتابوں میں ’’رشدِ رشیدی حقیقی‘‘، ’’حامض الانسان‘‘، ’’جوازِ تعزیہ‘‘، ’’حقیقتِ بیعت‘‘، ’’براہینِ قاطعہ بر جوازِ تعزیہ‘‘، ’’سیف المعرفت‘‘ اور ’’ملائیت کے غنیم کا بکڑپن (مشین گن)‘‘ نمایاں حیثیت رکھتی ہیں، اس کے علاوہ آپ کی کئی اہم قلمی اور غیر مطبوعہ تصانیف بھی اہلِ علم کے لیے گراں قدر سرمایہ ہیں جن میں ’’چھوٹی تعلیم (تعلیمِ مرشد)‘‘، ’’انتخابِ اشعارِ تصوف و کلامِ متفرقہ‘‘، ’’ملفوظات‘‘، ’’رسالۂ انسانِ کامل‘‘، ’’بنیادِ درویشی‘‘، ’’دودرویش‘‘، ’’دیوانِ بسمل‘‘، ’’مصحفِ رخ‘‘، ’’حقیقتِ بیعت‘‘ اور ’’رازِ بیعت‘‘ قابلِ ذکر ہیں، ان تصانیف سے نہ صرف ان کے وسعتِ مطالعہ اور علمی تبحر کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ان کے روحانی مشرب، صوفیانہ افکار اور اصلاحی نقطۂ نظر کی بھی بھرپور ترجمانی ہوتی ہے۔