Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

اکرام احمد لطفؔ

1875 - 1942 | بدایوں, بھارت

قلندرانہ مزاج اور نعتیہ شاعری کے منفرد آہنگ کے حامل شاعر۔

قلندرانہ مزاج اور نعتیہ شاعری کے منفرد آہنگ کے حامل شاعر۔

اکرام احمد لطفؔ کا تعارف

تخلص : 'لطف'

اصلی نام : اکرام احمد

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : 21 Aug 1942 | اتر پردیش, بھارت

مفتی اکرام احمد ولد حافظ غلام علی جیلانی، محلہ سوتھا، بدایوں کے ساکن اور خاندانِ بنو حمید کے معزز فرد تھے، آپ کی ولادت 1292ھ مطابق 1875ء میں ہوئی، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے مدرسہ قادریہ، بدایوں میں علومِ دینیہ کی تحصیل کی، چونکہ آبائی جائیداد آپ کے لیے کفایت کرتی تھی، اس لیے آپ معاشی مشاغل سے بے نیاز رہے اور علمی و ادبی ذوق کی آبیاری میں مصروف رہے، شاعری میں آپ کو نواب ظفریان خاں اور راسخ لکھنوی سے تلمذ حاصل تھا، روحانی اعتبار سے آپ سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے اور مولانا عبدالمقتدر قادری کے دستِ ارادت پر بیعت تھے، زندگی کے ایک مرحلے پر موتیابند کے عارضے کے باعث آپ کی بینائی جاتی رہی، تاہم اس کے باوجود آپ کا ادبی ذوق برقرار رہا، آپ نے 19 شعبان 1362ھ مطابق 21 اگست 1943ء کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور درگاہ قادریہ میں مدفون ہوئے، طبیعت میں قلندرانہ شان اور حالات کی ناسازگاری کے باعث آپ نے اپنے کلام کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ نہ دی، اگرچہ آپ ایک صاحبِ طرز شاعر تھے، آپ کے کلام میں عشقیہ رنگ نمایاں ہے، ادبی یادگاروں میں تین بہاریہ، ایک دیوان (نعت و مناقب)، جنگِ خیبر کے حالات پر ایک طویل مثنوی اور مولوی وحید بخش کے انتقال پر ایک شخصی مرثیہ شامل ہیں، آپ کا نعتیہ کلام آج بھی نعت خواں حضرات کی بیاضوں، شعرا کے انتخابی مجموعوں اور مختلف اخبارات و رسائل میں منتشر صورت میں محفوظ ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے