Font by Mehr Nastaliq Web
Imam Hassan's Photo'

امام حسن

625 - 670 | مدینہ, سعودیہ عربیہ

حضرت رسول اللہ کے نواسے، حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہرا کے بڑے صاحبزادے تھے، 3 ہجری میں پیدا ہوئے اور 49 ہجری میں وصال فرمایا۔

حضرت رسول اللہ کے نواسے، حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہرا کے بڑے صاحبزادے تھے، 3 ہجری میں پیدا ہوئے اور 49 ہجری میں وصال فرمایا۔

امام حسن کا تعارف

اصلی نام : حسن بن علی

پیدائش : 04 Mar 625 | مدینہ

وفات : 05 Mar 670 | سعودیہ عربیہ

رشتہ داروں : حضرت علی (والد), امام حسین (بھائی)

حسن بن علی بن ابو طالب حضرت رسول اللہ کے نواسۂ نامدار، جگر گوشۂ بتول حضرت فاطمہ زہرا کے فرزندِ ارجمند اور حضرت علی مرتضیٰ کے بڑے صاحبزادے ہیں، آپ کی ولادت باسعادت پندرہ رمضان المبارک سنہ 3 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی، حضرت رسول اللہ کو آپ سے بے حد محبت تھی اور آپ نے آپ کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ “اللّٰہم إنی أحبہ فأحبہ” یعنی اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما، ایک اور ارشاد میں آپ نے حسن و حسنین کریمین کو “الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنۃ” یعنی جنتی نوجوانوں کے سردار قرار دیا، حضرت نے آپ کو اپنی آغوشِ شفقت میں لیتے، کندھوں پر بٹھاتے، بوسہ دیتے اور بے پایاں محبت و رحمت سے نوازتے۔
حسن بن علی نے اپنی تربیت براہِ راست سرچشمۂ نبوت میں پائی، آپ کی سیرت حلم، بردباری، وقار اور فطری شرافت کا حسین امتزاج تھی، اہلِ بیتِ اطہار کے اس نورانی سلسلے میں آپ ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں، جن کی زندگی تقویٰ، علم اور اخلاقِ حسنہ کی روشن مثال ہے، حضرت علی کے ساتھ آپ نے بعض تاریخی واقعات، خصوصاً جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں شرکت کی۔
حضرت علی کی شہادت کے بعد 40 ہجری میں اہلِ کوفہ نے آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کی اور آپ کو خلافت سپرد ہوئی، تاہم امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خونریزی کے خاتمے کی خاطر آپ نے چند ماہ بعد معاویہ بن ابی سفیان کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار فرما لی، یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں “عامُ الجماعت” کے نام سے معروف ہے اور اسے صلح و اتحاد کی ایک عظیم مثال سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد آپ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے اور باقی زندگی عبادت، علم اور زہد و تقویٰ میں بسر فرمائی، بالآخر 49 ہجری میں آپ کا وصال ہوا اور آپ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے