Font by Mehr Nastaliq Web
Inayat Khan's Photo'

عنایت خاں

1882 - 1927 | حیدرآباد, بھارت

برصغیر کے ممتاز صوفی، موسیقار اور روحانی مفکر تھے، آپ نے حضرت سید ابو ہاشم مدنی سے روحانی تربیت حاصل کی اور 1910ء میں یورپ و امریکہ جا کر تصوف، محبت، رواداری اور اخوتِ انسانی کا پیغام عام کیا، آپ کی تعلیمات اور تصانیف آج بھی روحانیت اور انسان دوستی کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔

برصغیر کے ممتاز صوفی، موسیقار اور روحانی مفکر تھے، آپ نے حضرت سید ابو ہاشم مدنی سے روحانی تربیت حاصل کی اور 1910ء میں یورپ و امریکہ جا کر تصوف، محبت، رواداری اور اخوتِ انسانی کا پیغام عام کیا، آپ کی تعلیمات اور تصانیف آج بھی روحانیت اور انسان دوستی کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔

عنایت خاں کا تعارف

اصلی نام : عنایت خاں

پیدائش : 05 Jul 1882 | گجرات

وفات : 05 Feb 1927 | دہلی, بھارت

عنایت خاں برصغیر کے ممتاز صوفی، موسیقار اور روحانی مفکر تھے جنہوں نے مشرقی تصوف کے آفاقی پیغام کو مغربی دنیا تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا، آپ کی ولادت 5 جولائی 1882ء کو ریاست بڑودہ کے ایک علمی و فنی خانوادے میں ہوئی، بچپن ہی سے آپ نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں غیر معمولی مہارت حاصل کی مگر جلد ہی موسیقی کو محض فن کے بجائے روح کی بالیدگی اور معرفتِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا، آپ نے حضرت سید ابو ہاشم مدنی سے روحانی تربیت حاصل کی اور سلسلۂ چشتیہ سمیت متعدد سلاسلِ تصوف سے وابستگی اختیار کی، 1910ء میں آپ نے یورپ اور امریکہ کا سفر کیا جہاں محبت، رواداری، اخوتِ انسانی اور تصوف کے عالمگیر پیغام کو عام کیا، آپ کی تعلیمات کا محور انسانوں کے درمیان روحانی وحدت، باہمی احترام اور باطنی تزکیہ تھا، جس نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو یکساں طور پر متاثر کیا، فرانس میں قائم ہونے والی فضل منزل آپ کی روحانی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنی، جہاں سے آپ کے افکار دنیا بھر میں پھیلے، آپ کی تصانیف، خطبات اور صوفیانہ تعلیمات آج بھی روحانیت، محبت اور انسان دوستی کے اہم مآخذ سمجھے جاتے ہیں، 5 فروری 1927ء کو آپ کا وصال ہوا مگر آپ کا فکری اور روحانی ورثہ آج بھی دنیا بھر کے طالبانِ حقیقت کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے